حیاتِ نور — Page 636
ات نـ ــور وَالْقُرْآنُ كَافِ وَ شَافٍ نَحْمَدُ اللهَ وَهُوَ نُورٌ وَهُدًى وَشِفَاءٌ وَرَحْمَةً فَبِذَالِكَ فَلْيَفْرَحُوا وَهُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ - أَوَلَمْ يَكْفِهِمُ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَى عَلَيْهِم إِنَّ فِي ذَالِكَ لَرَحْمَةٌ وَ ذِكْرَىٰ لِقَومٍ يُؤْمِنُونَ اس عربی عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ قرآن کریم ہی انسان کے لئے کافی ہے۔اور اس کی ہر مرض کا علاج ہے۔اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا اقرار کرتے ہیں کہ اس نے ہم کو ایسی کتاب دی۔اور وہ نور ہے اور ہدایت ہے اور شفاء ہے اور رحمت ہے۔(آگے دو آیتیں لکھی ہیں۔جن کا ترجمہ یہ ہے ) پس چاہئے کہ لوگ اسی پر خوش ہوں اور یہ ان سب اشیاء سے جو لوگ جمع کرتے ہیں بہتر ہے۔کیا ان لوگوں کے لئے کافی نہیں ہوا کہ ہم نے تجھ پر ایک کتاب اتاری ہے۔جو اُن پر پڑھی جاتی ہے۔اس میں رحمت اور نصیحت ہے مومنوں کے لئے۔ایڈیٹر ) ”سنا ہے کہ اصول التفسیر ابن قیم، استفتاء القرآن بصائر زودی تمیز مجد فیروز آبادی عمدہ ہیں۔وہ میں نے نہیں دیکھیں۔اور شوق ہے۔ایسا ہی قطف الثمر اور مترک القرآن جلال الدین سیوطی سنا ہے عمدہ ہیں۔آپ بہت دعاؤں سے عمدہ تفسیر اللہ تعالیٰ سے مانگو۔یا صرف بلکہ صرف قرآن پر تدبر کرتے رہو۔مدیر المنار نے بنام محمد عبدہ ایک تغییر نمبر ۲ ۳ ۴ شائع کی ہے مگر اس میں تعصب اور بے جاطول ہے۔علاوہ بریں وہ ہمارا غالی دشمن اور مسیح پر بد زبان ہے ہمیشہ اس کے پاس اس کو دشمن یقین کر کے جاؤ۔ہاں فصیح اللسان ہے والحق يقال۔احادیث میں مؤطا امام مالک اور امام بیٹی۔یہ دونوں مو طا ہیں۔اگر ان کی شرح تمہید ابن عبدالبر اور استند کار ابن عبد البرمل جائے۔مسلم کی صیح (یعنی امام مسلم کی کتاب جو صحیح مسلم کے نام سے مشہور ہے۔ایڈیٹر ک الجامع صحیح البخاری بشرح فتح الباری لابن حجر الشافعی الحافظ و شرح ابن رجب الحنبلی و شرح الاسكندرانی المالکی و شرح بدر الہی اکتفی بہت ہیں۔ہاں ابوداؤد پر مندری و تہذیب السنن ترمندی پر قاضی ابو بکر۔ابن ماجہ پر ابن قطن۔ابن رجب اور عراقی کی وہ یادداشتیں جو اسکے غلط مقامات پر ہوں۔فقہ میں مذاہب اربعہ کے وہ مختصرات جو صاف اور آسان ہوں۔مثلا قدوری حنفیہ میں۔اصول میں اسی طرح صاف صاف مثلاً اصول شاشی۔حنفیہ میں رسائل اربعہ اتقان سے "