حیاتِ نور

by Other Authors

Page 36 of 831

حیاتِ نور — Page 36

کہا یہ بھی ایک علم ہے“۔۵۳ حضور نے ۱۵اگست ۱۹۱۳ ء کے خطبہ جمعہ میں بھی اس واقعہ کا اختصار ا ذکر فرمایا۔اور حضرت شاہ عبد العزیز صاحب کے اس جواب کا کہ قرآن پڑھو۔حق ظاہر ہوگا اور یہ کہ ہمارے بھائی رفیع الدین نے ترجمہ لفظی لکھ دیا ہے۔اگر کچھ شبہ ہو تو کسی مذہب کے عالم سے صرف اس لفظ کا ترجمہ پوچھ لو۔پھر مذہب حقیقی کا پتہ لگ جائے گا۔ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ و بس وہ سبق تو فسانہ عجائب کے دوسرے صفحہ تک رہ گیا اور ہمیں قرآن شریف کی بڑی محبت ہوگئی۔۵۳ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ حضور نے ”فسانہ عجائب کے صرف دو صفحے مرزا رجب علی بیگ صاحب سے پڑھے تھے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی توجہ قرآن شریف کی طرف پھیر دی اور فسانہ عجائب کی بجائے آپ خزانہ عجائب کے گرویدہ ہو گئے۔حصول سند و اجازت رخصت آپ دو برس حضرت حکیم علی حسین صاحب کے پاس رہے اور بمشکل قانون کا عملی حصہ ختم کیا۔بعد حصول سند و اجازت رخصت مانگی اور عرض کی کہ اب میں عربی کی تکمیل کے لئے اور حدیث پڑھنے کے لئے جاتا ہوں۔حکیم صاحب نے آپ کو میرٹھ اور دہلی جانے کا مشورہ دیا اور ساتھ ہی محبت سے فرمایا۔ہم آپ کو ان دونوں شہروں میں معقول خرچ بھیجا کریں گے۔جب آپ میرٹھ پہنچے تو حافظ احمد علی صاحب کلکتہ کو چلے گئے تھے اور مولوی نذیر حسین مجاہدین کو روپیہ پہنچانے کے مقدمہ میں ماخوذ تھے لہذا اس وقت آپ ان دونوں سے ایک حرف بھی نہ پڑھ سکے۔البتہ بعد ازاں جبکہ طالب علمی کا زمانہ گزر چکا تھا، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حافظ احمد علی صاحب سہارنپوری سے بہت کچھ استفادہ کیا۔۵۴ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی سید نذیر حسین صاحب سے نہ پڑھنے میں بھی ایک حکمت تھی۔اور وہ یہ تھی کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی مسیحیت کے بعد اول المکفرین بننا تھا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کے خلیفہ اول ہونے کا شرف عطا کرنا تھا۔اس لئے اس نے نہ چاہا کہ آپ ایسے انسان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کریں۔البتہ ان کے علمی غرور کو توڑنے کے لئے