حیاتِ نور — Page 434
۴۳۰ بورڈنگ مدرسہ تعلیم الاسلام کی تعمیر کے لئے تیس ہزار روپیہ کی اپیل اس کتاب میں کسی جگہ ہم ذکر کر آئے ہیں کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کو جاری کرنے کے لئے اکتوبر ۱۸۹۷ء میں اشتہار دیا گیا تھا اور جنوری ۱۸۹۸ء میں افتتاح ہوا تھا۔اور اس مدرسہ نے اس قدر ترقی حاصل کی تھی کہ کالج بن گیا اور اس میں حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب جیسے جلیل القدر انسان بھی کچھ وقت دیتے رہے مگر بعد ازاں یو نیورسٹی کمیشن کی ہدایات کے ماتحت کالج مذکور کو بند کرنا پڑا۔ورنہ کالج بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا۔بہر حال اس امر کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ مدرسہ تعلیم الاسلام اور بورڈ نگ تعلیم الاسلام جو اندرون قصبہ کچی عمارتوں میں تھے ان کے لئے باہر کھلی فضا میں بڑی عمدہ عمارتیں تعمیر کروائی جائیں۔اس لئے خلافت اولی کی ابتداء ہی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حضرت نواب صاحب کی کوٹھی کے سامنے قصبہ کی جانب مدرسہ اور بورڈنگ ہاؤس کے لئے شاندار عمارتیں تعمیر کی جائیں۔چنانچہ اس کام کے لئے چندہ کی تحریک کی گئی اور جب کچھ روپیہ جمع ہو گیا تو اینٹیں تیار کرنے کے لئے بھٹہ بنوایا گیا اور چونکہ بورڈنگ ہاؤس کی زیادہ ضرورت محسوس کی گئی۔اس لئے مجلس معتمدین نے فیصلہ کیا کہ پہلے بورڈنگ ہاؤس کی عمارت تعمیر کی جائے۔جس کے خرچ کا اندازہ چالیس ہزار یا اس سے کچھ زیادہ رقم کا تھا مگر چونکہ دس ہزار روپیہ چندہ گذشتہ سال ہو چکا تھا اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے حکم سے بقیہ میں ہزار روپیہ کی فراہمی کے لیئے جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے قوم سے اپیل کی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے اس رقم کی فراہمی کے لئے ایک وفد بھی مقرر فرمایا جس کے ممبر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب، جناب خواجہ کمال الدین صاحب، جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، حضرت شیخ یعقوب علی صاحب اور جناب مولوی محمد علی صاحب تھے۔اس وفد نے سب سے پہلے قادیان میں اپنا کام شروع کیا۔سوالحمد للہ کہ احباب قادیان نے اس مبارک کام کے لئے سولہ سورو پید دینے کا وعدہ کیا اور حضرت خلیفہ المسیح کے چھ سو روپیہ کے چندہ سے جو کل رقم کا پچاسواں حصہ تھا، اس مبارک کام کی ابتداء کی۔۱۸ انعامات الہیہ کا ذکر ۷ اراپریل ۱۹۰۹ء کا ذکر ہے حضور درس القرآن کے لئے مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے اور حضور نے سورۃ آل عمران کے پانچویں رکوع کا درس دیا۔اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فر مایا