حیاتِ نور — Page 388
ــور ۳۸۵ بھیروی نے اپنی جائداد کی وصیت جو بحق اشاعت اسلام کی تھی۔اس جائداد میں ایک حویلی بھی تھی جسے انجمن فروخت کرنا چاہتی تھی۔حضرت حکیم صاحب نے وہ حویلی ایک شیعہ سے خریدی تھی۔جس نے اپنی کسی سخت مجبوری کی بناء پر بہت ہی ستی فروخت کر دی تھی۔اسے جب علم ہوا کہ انجمن اس حویلی کو فروخت کرنا چاہتی ہے تو اس نے حضرت خلیفہ اُسی اول کی خدمت میں سارے حالات لکھ کر درخواست کی کہ اب یہ حویلی مجھے ہی کسی قدر رعایت کے ساتھ دیدی جائے۔حضور نے از راہ ترحم اس کی درخواست کو قبول فرمالیا اور انجمن کو لکھا کہ یہ حویلی کچھ رعایت سے اس کے پاس فروخت کر دی جائے۔انجمن پر یہی لوگ قابض تھے۔انہوں نے سمجھا کہ اب جماعت کو حضرت خلیفۃ المسیح سے بدظن کر دینے کا سنہری موقع ہمارے ہاتھ آ گیا ہے اسے ہرگز ضائع نہیں جانے دینا چاہئے۔چنانچہ انہوں نے جماعت میں یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ حضرت خلیفہ المسیح انجمن کی ایک قیمتی جائداد کو ستے داموں فروخت کر کے انجمن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور حضرت خلیفہ اسی کو بھی کہا کہ ہم تو یہ حویلی نیلام کریں گے۔اگر وہ شیعہ خریدنا چاہتا ہے تو نیلام میں خرید لے ہم خاص رعایت کر کے انجمن کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔حضرت خلیفہ امسیح نے جب دیکھا کہ یہ تو کسی طرح مانتے ہی نہیں تو ناراض ہو کر لکھدیا کہ میری طرف سے اجازت ہے۔آپ جس طرح چاہیں کریں میں دخل نہیں دیتا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا بیان ہے۔” جب انجمن کا اجلاس ہوا۔میں بھی موجود تھا۔ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب حال سیکریٹری انجمن اشاعت اسلام لاہور نے میرے سامنے اس معاملہ کو اس طرح پیش کیا کہ ہم لوگ خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہیں اور ٹرسٹی ہیں۔اس معاملہ میں کیا کرنا چاہئے۔میں نے کہا کہ جب حضرت خلیفہ المسیح اول مفرماتے ہیں کہ اس شخص سے کچھ رعایت کی جائے تو ہمیں چاہئے کہ کچھ رعایت کریں۔ڈاکٹر صاحب نے اس پر کہا کہ حضرت نے اجازت دیدی ہے۔جب خط سنایا گیا تو مجھے اس سے صاف ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے اور میں نے کہا کہ یہ خط تو ناراضگی پر دلالت کرتا ہے نہ کہ اجازت پر۔اس لئے میری رائے تو وہی ہے۔اس پر ڈاکٹر صاحب موصوف نے ایک لمبی تقریر کی۔جس میں خشیت اللہ اور تقویٰ اللہ کی مجھے تاکید کرتے رہے۔میں نے ان کو بار بار یہی جواب دیا کہ آپ جو چاہیں کریں۔میرے نزدیک یہی رائے درست ہے۔چونکہ ان لوگوں