حیاتِ نور

by Other Authors

Page 362 of 831

حیاتِ نور — Page 362

ات نور کہ صدیق خلیفہ ہوا کرتا ہے۔ادھر واقعات بھی بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد تمام جماعت نے بالا تفاق حضرت مولوی صاحب کو خلیفہ تسلیم کیا اور جب آپ حضور کے خلیفہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ حضور کے بعد خلافت جاری ہے۔ششم حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی آخری تصنیف رسالہ ”پیغام صلح میں جو حضور نے اپنی وفات سے ایک دن پیشتر ختم کی تھی۔ہندوؤں کے ساتھ شرائط صلح تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں سب سے پہلے اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے پر تیار ہوں کہ ہم احمدی لوگ ہمیشہ دید کے مصدق ہوں گے اور دید اور اس کے رشیوں کا تعظیم اور محبت سے نام لیں گے اور اگر ایسا نہ کریں گے تو ایک بڑی بھاری رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی ہندو صاحبوں کی خدمت میں ادا کریں گے اور اگر ہندو صاحبان دل سے ہمارے ساتھ صفائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ایسا ہی اقرار لکھ کر اس پر دستخط کریں اور اس کا مضمون بھی یہ ہوگا کہ ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کو سچا نبی اور رسول سمجھتے ہیں۔اور آئندہ آپ کو ادب اور تعظیم کے ساتھ یاد کریں گے جیسا کہ ایک ماننے والے کے مناسب حال ہے اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی احمدی جماعت کے پیشرو کی خدمت میں پیش کریں گے۔یادر ہے کہ ہماری احمدی جماعت اب چار لاکھ سے کچھ کم نہیں ہے اس لئے ایسے بڑے کام کے لئے تین لاکھ روپیہ چندہ کوئی بڑی بات نہیں ہے اور جو لوگ ہماری جماعت سے ابھی باہر ہیں دراصل وہ سب پراگندہ طبع اور پراگندہ خیال ہیں۔کسی ایسے لیڈر کے ماتحت وہ لوگ نہیں ہیں جو ان کے نزدیک واجب الاطاعت ہے“۔اس حوالہ سے صریحاً ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک جس قوم کا کوئی واجب الاطاعت لیڈر نہ ہو وہ پراگندہ طبع اور پراگندہ خیال ہوتی ہے اس لئے آپ غیر احمدیوں کو معاہدہ کرنے کے قابل قرار نہیں دیتے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی مذہب ہوتا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت کے لئے کسی واجب الاطاعت لیڈر کی ضرورت نہیں تو دوسرے لفظوں یا کے یہ معنی ہیں کہ آپ چاہتے تھے کہ آپ کی وفات کے بعد نعوذ باللہ آپ کی جماعت پراگندہ