حیاتِ نور — Page 360
۳۵۸ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا۔اس میں بھی یہی بھید تھا کہ آپ کو بھی خوب علم تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ایک خلیفہ مقررفرمادے گا کیونکہ یہ خدا ہی کا کام ہے اور خدا کے انتخاب میں نقص نہیں۔چنانچہ انہوں نے حضرت ابوبکر کو اس کام کے واسطے خلیفہ بنایا اور سب سے پہلے حق انہی کے دل میں ڈالا ایک الہام میں اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام بھی شیخ رکھا ہے۔انتَ الشَّيْخُ المَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُهَ اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی وفات کے قریب ہونے کی وجہ سے جماعت کو سمجھا رہے تھے کہ قدیم سنت کے مطابق میرے بعد بھی خلیفہ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ہی ہوں گے۔کیونکہ آپ صدیق المشرب ہیں اور بغیر نشان طلب کرنے کے سب سے پہلے ایمان لائے ہیں۔نیز یہ بھی بتادیا کہ میرے بعد جماعت میں جو افتراق اور انتشار کی کیفیت پیدا ہوگی۔اس کی اصلاح بھی اللہ تعالیٰ آپ ہی کے ذریعہ سے کرے گا۔چنانچہ یہ خلافت اور انجمن کا جھگڑا اور ایسے ہی بعض دوسرے جھگڑوں کا فیصلہ جس جر آئستہ اور دلیری کے ساتھ آپ نے کیا یہ آپ ہی کا حصہ تھا۔(ب) ایسا ہی دوسری جگہ حضرت مولوی صاحب کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس فرماتے ہیں: انہوں نے ایسے وقت میں بلاتر دو مجھے قبول کیا کہ جب ہر طرف سے تکفیر کی صدائیں بلند ہونے کو تھیں اور بہتیروں نے باوجود بیعت کی بلند اور کے عہد بیعت فسخ کر دیا تھا اور بہتیرے ست اور متذبذب ہو گئے تھے۔تب سب سے پہلے مولوی صاحب ممدوح کا ہی خط اس عاجز کے اس دعویٰ کی تصدیق میں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں ، قادیان میں میرے پاس پہنچا۔جس میں یہ نقرات درج تھے۔آمَنَّا وَ صَدَّقْنَا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ٣٣ (ج) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت ابوبکر صدیق کے متعلق یہی فرمایا ہے کہ ما دعوت احدًا الى الإسلام الا كانت له عنه كبوة و تردد و نظر الا ابابكر ماعتم عنه حين ذكرته وما تردد ور