حیاتِ نور — Page 324
ـور ۳۲۲ اپنی خلافت کے آخری ایام میں آپ کا یہ معمول تھا کہ آپ اپنے فرزند میاں عبدائی صاحب مرحوم سے روزانہ دو پارے سنا کرتے تھے۔نیز آپ جنت اور جنت کی نعماء کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ اگر خدا تعالٰی نور الدین سے پوچھے کہ تمہیں کونسی چیز سب سے زیادہ پسند ہے تو میں تو یہی کہوں کہ مجھے قرآن مجید دیا جاوے۔مکرم و محترم مولوی ظهور حسین صاحب مجاہد بخار اور روس کا بیان ہے کہ حضرت حافظ روشن علی صاحب جو حضرت مولوی صاحب کے خاص الخاص شاگردوں میں سے تھے، فرمایا کرتے تھے کہ جب میں وزیر آباد میں اپنے ماموں حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی سے قرآن کریم حفظ کیا کرتا تھا تو میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک نہایت بزرگ سفید ریش آدمی نے ایک دودھ کا بھرا ہوا پیالہ مجھے دیا اور فرمایا کہ پیو۔میں نے پیا مگر کچھ بچ گیا۔انہوں نے فرمایا اور پیو۔چنانچہ میں نے پھر اور پیا۔حضرت حافظ صاحب فرماتے تھے کہ اس وقت تو مجھے اس خواب کی تعبیر سمجھ نہ آئی لیکن جب قادیان پہنچا تو پتہ لگا کہ وہ بزرگ حضرت خلیفتہ المسیح الاول تھے۔کیونکہ میں بعض اوقات ساری رات آپ سے علوم دین حاصل کرتا رہتا تھا مگر آپ اکتاتے نہیں تھے۔سفر لاہور ۲۷ سایریل ۱۹۰۸ء ان دنوں حضرت ام المومنین کی طبیعت چونکہ علیل رہتی تھی۔اور آپ چاہتی تھیں کہ لاہور جا کر کسی قابل لیڈی ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج ہو۔مگر حضرت اقدس کو بعض الہامات کی وجہ سے اپنے قرب وصال کا احساس پیدا ہو چکا تھا۔اس لئے حضور لاہور تشریف لے جانے میں متامل تھے۔لیکن حضرت ام المومنین کی خواہش کا احترام بھی مدنظر تھا۔اس لئے حضور نے دعا شروع کی اور بعض اور لوگوں کو بھی دعا کے لئے فرمایا۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ مجھے حضور نے فرمایا کہ ” مجھے ایک کام در پیش ہے۔دعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا“۔چنانچہ آپ نے خواب دیکھا کہ آپ چو بارہ پر گئی ہیں اور حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں۔اور میں ابوبکر ہوں۔