حیاتِ نور

by Other Authors

Page 12 of 831

حیاتِ نور — Page 12

۱۲ میں نماز جمعہ کا بھی التزام نہیں تھا۔علماء اور مفتیان شرع کے فتویٰ کے مطابق جمعہ کی نماز صرف شہروں میں پڑھائی جاتی تھی اور وہاں بھی جمعہ کے بعد اکثر لوگ بطور احتیاط ظہر کی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔کیونکہ ان کے نزدیک انگریزوں کی حکومت کے باعث ہندوستان دار الحرب تھا۔اور دار الحرب مجھے وہ جمعہ کی نماز جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے بعد چونکہ ملک کے اطراف و جوانب میں احمدی جماعتیں قائم ہو گئیں اور انہوں نے ہر چھوٹی بڑی جگہ میں جمعہ پڑھنا شروع کر دیا۔اس لئے اُن کی دیکھا دیکھی دوسرے مسلمانوں نے بھی شہروں اور دیہات میں جمعہ پڑھنا شروع کر دیا ہے اور یہ بات تو بطور ایک مثال کے ہے ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کی روشنی میں اب اس قدر انتشار روحانیت ہو چکا ہے کہ بیشتر مسائل میں تعلیمیافتہ مسلمان احمدی علم کلام کی صحت کے قائل ہو چکے ہیں۔ان امور کا ذ کر اس لئے کیا گیا ہے کہ تا قارئین کرام اندازہ کر سکیں کہ اس زمانہ میں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنا کس قدر مشکل امر تھا مگر حضرت خلیفہ المسیح الاول سے چونکہ اللہ تعالٰی نے آپ کی آئندہ زندگی میں عظیم الشان کام لینا تھا اس لئے اس نے آپ کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیئے جن کی بدولت آپ نے بچپن ہی میں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنا شروع کر دیا۔آپ فرماتے ہیں: ”جناب الہی کے انعامات میں سے ایک یہ بات تھی کہ ایک شخص غدر (یعنی ۱۸۵۷ء) میں کلکتہ کے تاجر کتب جو مجاہدین کے پاس اس زمانہ میں روپیہ لے جایا کرتے تھے ہمارے مکان میں اترے۔انہوں نے ترجمہ قرآن کی طرف یا یہ کہنا چاہئے کہ اس گرانبها جواہرات کی کان کی طرف مجھے متوجہ کیا جس کے باعث میں اس بڑھاپے میں نہایت شاد مانہ زندگی بسر کرتا ہوں۔وذلك فَضْلُ اللهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَكِنْ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ - غالباً اسی تاجر کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ "سب سے پہلے ایک تاجر کلکتہ سے مجھے پنجسورہ مترجم بزبان اردو ملا جو مطبع مصطفائی کا چھپا ہوا تھا۔تقویۃ الایمان اور مشارق الانوار پڑھنے کی سفارش اس کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ بمبئی سے ایک تاجر آئے انہوں نے تقویۃ الایمان اور مشارق