حیاتِ نور — Page 290
۲۸۹ صاحب کے ذمہ ہی ہے جس میں بعض احباب کچھ ماہواری یا وقتا فوقتا امداد بھی دیا کرتے ہیں۔اس سال کے بعض طلباء یہ ہیں۔مولوی غلام نبی صاحب مصری، حافظ روشن علی صاحب ، میاں غلام محمد صاحب کشمیری، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، سید عبدالحئی صاحب، عبدالرحمن صاحب دا توی، محمد جی ہزاروی، محمد شاہ، ابوسعید عرب صاحب، محمد یار۔۵۹ حضرت مولوی صاحب نے یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رکھا۔حتی کہ خلافت کے ایام میں بھی آپ کا یہ فیض جاری رہا۔اور میں سمجھتا ہوں۔آپ کا یہ کارنامہ اس قدر عظیم الشان ہے کہ شاید اس کی مثال ملنا محال ہو۔آپ کے شاگردوں میں حضرت حافظ روشن علی صاحب کا نام آنے پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ یہ ذکر کرتے ہوئے کہ میں طالب علمی کے زمانہ میں چھ چھ سات سات وقت کھانا نہیں کھایا کرتا تھا۔فرمایا: " حافظ روشن علی نے میری تقریر ہوتے ہوئے آسمانی کھانا کھالیا تھا۔بیداری میں کباب اور پراٹھے کھاتا رہا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب تحریر فرماتے ہیں: خاکسار راقم الحروف نے حضرت اقدس سے حافظ صاحب کے متعلق یہ سن کر بعد میں حافظ صاحب سے مفصل پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک دن میں نے ابھی کھانا نہیں کھایا تھا۔سبق کی انتظار میں بیٹھے بیٹھے کھانے کا وقت گزر گیا حتی کہ ہمارا حدیث کا سبق شروع ہو گیا۔میں اپنی بھوک کی پروا نہ کر کے سبق میں مصروف ہو گیا در آنحالیکہ میں بخوبی سبق پڑھنے والے طالبعلم کی آواز سن رہا تھا اور سب کچھ دیکھ رہا تھا کہ یکا یک سبق کا آواز مدھم ہوتا گیا اور میرے کان اور آنکھیں باوجود بیداری کے سننے اور دیکھنے سے رہ گئے۔اس حالت میں میرے سامنے کسی نے تازہ بتازہ تیار ہو ا ہوا کھانا لا رکھا۔گھی میں تلے ہوئے پراٹھے اور بھنا ہوا گوشت تھا۔میں خوب مزے لے لے کر کھانے لگ گیا۔جب میں سیر ہو گیا تو میری یہ حالت منتقل ہوگئی اور پھر مجھے سبق کا آواز سنائی دینے لگ گیا۔مگر اس وقت بھی میرے منہ میں کھانے کی لذت موجود تھی۔