حیاتِ نور

by Other Authors

Page 275 of 831

حیاتِ نور — Page 275

۲۷۵ سے عرض کیا کہ اندھیرا ہورہا ہے ، پھر مزدور نہیں ملے گا۔ہم کسی مزدور کو بلا لیتے ہیں اور سٹیشن پر پہنچ جاتے ہیں۔وہاں ویٹنگ روم میں ہم آرام کر لیں گے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔بہت اچھا۔چنانچہ میں نے ایک مزدور بلایا اور وہ ہم دونوں کے بستر لے کر سٹیشن پر پہنچ گیا چونکہ گاڑی رات کے دس بجے کے بعد آتی تھی۔میں نے آپ کا بستر کھول دیا تا کہ حضرت مولوی صاحب آرام فرما لیں۔جب میں نے بستر کھولا تو اللہ تعالیٰ اس بات کا گواہ ہے کہ اس کے اندر سے ایک کاغذ میں لیٹے ہوئے دو پراٹھے نکلے جن کے ساتھ قیمہ رکھا ہوا تھا۔میں سخت حیران ہوا اور میں نے دل میں کہا لو بھئی۔وہ کھانا بھی ہم نے کھا لیا اور یہ خدا کی طرف سے اور کھانا بھی آ گیا۔کیونکہ اس کھانے کا ہمیں مطلقا علم نہیں تھا۔میں نے حضرت مولوی صاحب سے سے عرض کیا کہ حضور جب ہم قادیان سے چلے تھے تو چونکہ اچانک اور بے وقت چلے تھے میں نے دل میں سوچا کہ آج ہم دیکھیں گے کہ مولوی صاحب کو کھانا کہاں سے آتا ہے۔سو پہلے آپ کی دعوت ہو گئی اور اب یہ پراٹھے بستر سے بھی نکل آئے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔شیخ صاحب ! اللہ تعالیٰ کو آزمایا نہ کرو اور خدا سے ڈرو۔اس کا میرے ساتھ خاص معاملہ ہے۔“ 866 محترم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کا بیان ہے کہ یہ واقعہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نے انہیں بھی لندن میں سنایا تھا۔لیکن وہ اجنبی شخص جس کا اوپر ذکر آیا ہے۔اس کے متعلق بتایا تھا کہ اس کے بھائی کا آپنے علاج کیا تھا۔مگر وہ خود ایک برات میں جانے کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے اس نے اپنے بھائی کو بھیج دیا۔کتاب نور الدین کی اشاعت آخر فروری ۱۹۰۴ء ایک شخص عبد الغفور نے جو مرتد ہو کر آریہ ہو گیا تھا اور اس نے اپنا نام دھرمپال رکھ لیا تھا۔ایک کتاب ” ترک اسلام نامی لکھی۔حضرت مولوی صاحب نے حضرت اقدس کے حکم سے اس کا جواب نورالدین کے نام سے لکھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ