حیاتِ نور — Page 162
ہوں۔اس وقت حلفا اقرار صحیح سراسر نیک نیتی اور حق طلبی اور خلوص دل سے کرتا ہوں کہ اگر میں اسلام کی تائید میں کوئی نشان دیکھوں جس کی نظیر مشاہدہ کرانے سے میں عاجز آ جاؤں اور انسانی طاقتوں میں اس کا کوئی نمونہ انہیں تمام لوازم کے ساتھ دکھلا نہ سکوں تو بلا توقف مسلمان ہو جاؤں گا۔اس اشاعت اور اقرار کی اس لئے ضرورت ہے کہ خدائے قیوم وقد دس بازی اور کھیل کی طرح کوئی نشان دکھلا نا نہیں چاہتا۔جب تک کوئی انسان پورے انکسار اور ہدایت یابی کی غرض سے اس کی طرف رجوع نہ کرے تب تک وہ بنظر رحمت رجوع نہیں کرتا اور اشاعت سے خلوص اور پختہ ارادہ ثابت ہوتا ہے اور چونکہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ کے اعلام سے ایسے نشانوں کے ظہور کے لئے ایک سال کے وعدے پر اشتہار دیا ہے سو وہی میعادڈاکٹر صاحب کے لئے قائم رہے گی۔طالب حق کے لئے یہ کوئی بڑی میعاد نہیں۔اگر میں ناکام رہا تو ڈاکٹر صاحب جو سزا اور تاوان میری مقدرت کے موافق میرے لئے تجویز کریں وہ مجھے منظور ہے اور بخدا مجھے مغلوب ہونے کی حالت میں سزائے موت سے بھی کچھ عذر نہیں، نھ اس اشتہار کے شائع ہونے پر ڈاکٹر صاحب موصوف تو ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے اور اس طرح انہوں نے صداقت اسلام پر مہر لگا دی مگر حضرت مولوی صاحب کا ایمان بہت بڑھ گیا۔آپ نے جو چٹھی حضرت اقدس کی خدمت میں لکھی۔اس کا ایک حصہ حضور نے اس اشتہار کے حاشیہ میں درج فرمایا ہے وہ یقینا اس قابل ہے جو یہاں درج کیا جائے کیونکہ اس سے حضرت مولوی صاحب کے اخلاص و محبت کا پتہ چلتا ہے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں: حضرت مولوی صاحب کے محبت نامہ موصوفہ کے چند فقرے لکھتا ہوں۔غور سے پڑھنا چاہئے تا کہ معلوم ہو کہ کہاں تک فضل رحمانی سے ان کو انشراح صدر و صدق قدم و یقین کامل عطا کیا گیا ہے اور وہ فقرات یہ ہیں۔عالی جناب مرزا جی مجھے اپنے قدموں میں جگہ دو۔اللہ کی رضا مندی چاہتا ہوں اور جس طرح وہ راضی ہو سکے تیار ہوں۔اگر آپ کے مشن کو انسانی خون کی آبپاشی ضرور ہے تو یہ نابکار ( مگر محبت انسان ) چاہتا ہے کہ اس کام میں کام آوے۔تم کلامہ جزاہ اللہ۔