حیاتِ نور — Page 109
1+4 تیسرا باب حضرت مسیح الزماں کی طرف رجوع اور فدائیت کا اظہار حضرت اقدس مسیح الزمان علیه السلام کی طرف رجوع ۱۸۸۴ء حضرت مولوی نورالدین صاحب اپنے تبحر علمی، تصوف ، تو کل تواضع اور طبی کمالات کی وجہ سے ہندوستان بھر میں مشہور تھے۔لیکن ابھی تک آپکو باوجود تلاش بسیار کے کوئی کامل رہنما نہیں ملا تھا۔چنانچہ آپ اکثر اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کیا کرتے تھے کہ النبی ! کوئی ایسا کامل مرد پیدا کر۔جو اس پر آشوب زمانے میں دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کر سکے اور اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کر سکے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب "کرامات الصادقین " کے آخر میں آپ کا ایک مختصر سا مضمون شائع ہوا ہے جسمیں آپ نے اپنی اس تڑپ کا اظہار فرمایا ہے۔اصل مضمون چونکہ عربی زبان میں ہے اس لئے ہم نے طوالت سے بچنے کی خاطر اس کا لفظی ترجمہ درج کرنے ہی پر اکتفا کیا ہے۔"بسم الله الرحمن الرحيم الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيّدِ وُلدِ آدَمَ سَيَدُ الرُّسُلِ وَالْأَنْبِيَاء أَصْفَى الأصفياء مُحَمَّد خَاتَمُ النَّبِيِّنَ وَ الِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ۔اما بعد خدائے قوی و امین کا محتاج اور ضعیف بندہ نورالدین (خدا اسے آفات سے بچا کر اپنے ماموں بندوں کے زمرہ میں داخل فرمائے اور اس کے نام کی طرح اسے واقعی نورالدین بنائے ) عرض کرتا ہے کہ میں نے جب سے اس زمانہ کے لوگوں کی خرابیوں کا مشاہدہ کیا۔اور مذاہب اور اہل مذاہب میں تغیرات دیکھے تب سے میں شوق رکھتا تھا اور دعا کیا کرتا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ ایسا شخص دکھائے جو دینِ اسلام کی تجدید کرے اور معاندین اور شیاطین پر روحانی