حیاتِ نور — Page 77
ہے۔پیر صاحب نے فرمایا کہ آپ کے دادا نے ہمارے دادا کو دیا تھا۔آپ فرماتے ہیں: و میں نے کہا۔بہر حال آپ کو ہمارے خاندان سے کچھ نفع پہنچا ہے۔یہ سنکر انہوں نے فرمایا کہ میں اور آپ کا بڑا بھائی لاہور میں ایک جگہ رہتے تھے اور ہمارے بہت کچھ رسم آمد ورفت تھی۔میں نے کہا کہ میں نے سُنا ہے کہ آپ میرے اس شہر سے نکالنے میں شریک ہیں۔خیر یہ تو احسان کا بدلہ ہی ہوگا۔مگر آپ اتنا یا درکھیں کہ جو لوگ میرے مرید اور معتقد ہیں وہ تو کم سے کم آپ کو کبھی سلام نہ کریں گے۔اتنی سی گفتگو کر کے آپ واپس تشریف لے آئے۔عصر کے بعد جب علماء اکٹھے ہو کر اُن کے پاس گئے۔اور آپ کے اخراج کا فتویٰ پیش کیا۔تو پیر صاحب نے ہنس کر فرمایا۔فقر کا دروازہ بڑا ہی اونچا ہے۔ہندو، سکھ، مسلمان، عیسائی، وہابی سب فقر کے سلامی ہیں۔علماء نے کہا۔آپ نے فرمایا تھا که کل آنا، نور الدین کو شہر سے نکالنے کے لئے کوئی تدبیر آپ کو بتا دوں گا مگر آج آپ کچھ اور ہی فرما رہے ہیں۔پیر صاحب نے کہا ہاں ! آپ لوگ رسول کی گدی کے مالک ہیں اس لئے آپ کی رعایت کرنی ضروری ہے۔لیکن فقر کا دروازہ بہت اونچا ہے اور فقر کے سب سلامی ہیں۔غرض مولویوں نے بڑا زور لگا یا مگر سلام کے لفظ کو پیر صاحب نہ چھوڑ سکے۔اس کے بعد پیر صاحب نے ایک آدمی آپ کے پاس بھیجا جس نے آپ کو پیر صاحب کا یہ پیغام دیا کہ کل ہم آپ کے مکان کے قریب سے گزریں گے۔آپ باہر نکل کر ہم سے ملیں۔چنانچہ حسب وعدہ وہ اکیلے ہی گھوڑی پر سوار ہو کر اس طرف سے گزرے۔آپ نے باہر نکل کر اُن سے ملاقات کی۔کہنے لگے ”جوان ! میں نے وہ کام کر دیا ہے۔یار! اب اپنے مریدوں سے کہہ دیتا کہ وہ ہم کو سلام کر لیا کریں۔آپ نے فرمایا کہ پیر صاحب !جب میں نے خود آپ کو سلام کیا ہے تو میرے مُرید بھلا کیوں نہ کریں گئے۔بھیرہ میں آپ کی مخالفت بھیرہ میں جب آپ کی مخالفت انتہاء کو پہنچ گئی اور لوگ آپ کے قتل کے منصوبے کرنے لگے تو آپ کے ایک دودھ شریک بھائی نے کہا کہ میں نور الدین کو چھری مار کر ہلاک کر دوں گا۔جب آپ نے یہ بات سنی تو رات کو عشاء کی نماز کے بعد اس کے گھر چلے گئے۔اس کی والدہ کا چونکہ آپ نے دودھ پیا ہوا تھا۔اس لئے وہ آپ سے پردہ تو کرتی نہیں تھی آپ وہاں جا کر لیٹ گئے اور خراٹوں تک نوبت پہنچادی اور دل میں یہ خیال کہ میں دیکھوں گا یہ مجھے کس طرح چھری مارتا ہے۔یہانتک کہ جب