حیاتِ نور — Page 66
اب دوم ۶۶ ـور طرح مجھے گیارہ دفعہ اسقاط کرانا پڑا پھر بھی میرے اندرونی جوش جوانی کے ایسے تھے کہ میں نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ ہم آزادانہ میاں بیوی کے طور پر نہیں رہے۔تم یہ کرو کہ ملتان پہنچو اور وہاں ایک جگہ مقرر کر لی کہ میں بھی ملتان پہنچتی ہوں۔پھر وہاں ہم خوب کھل کر رہیں گے۔جب میں حج کے ارادہ سے چلی تو میرے بھائی جو آسودہ حال تھے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ چلتے ہیں تا کہ تم کو تکلیف نہ ہو۔میں نے اس بات کو منظور کر لیا۔رات کو کسی گاؤں میں ہم لوگ ٹھہرے۔رات کو بڑی شدت سے آندھی اور بارش آئی اور تمام مسافروں میں افراتفری مچ گئی۔میں نے دور اندیشی کے طور پر معین بارش اور ہوا کے طوفان میں جنگل کی طرف رخ کیا اور صبح تک دوڑتی بھاگتی چلی گئی اور کچھ خبر نہ تھی کہ کدھر جاتی ہوں۔صبح کی روشنی میں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ ملتان کا راستہ کونسا ہے؟ لوگوں نے مجھے ایک سڑک پر ڈال دیا۔میں نہیں جانتی کہ میرے بھائی واپس ہوئے یا کہاں تک انہوں نے میری تلاش کی۔میں جب ملتان پہنچی تو یہ میرے میاں صاحب منتظر کھڑے تھے۔وہاں سے ہم بخوشی و خرمی مکہ پہنچ کر مدتوں رہے جیسا کہ تم نے دیکھا ہے ہمارے گھر والوں کو کوئی خبر نہیں پہنچی۔اب میں جاتی ہوں۔ملتان کے ارد گرد میں اپنے میاں صاحب سے الگ ہو جاؤں گی۔یہ اصل بات ہے۔پس آپ ہمارا کوئی ذکر نہ کریں۔یہ قصہ صرف اس لئے بیان کیا ہے کہ بیواؤں کو بٹھانا اچھا نہیں وہ عورت کسی زمانہ میں ہمارے گھر میں بھی آئی تھی۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو توفیق دے جن کے گھر میں جوان اور بیوہ عورتیں ہیں کہ ان کا نکاح استخارہ کر کے کر دیں۔آپ کا اپنا اُسوہ آپ کا اپنا اسوہ اس بارہ میں یہ ہے کہ ایک مرتبہ جبکہ آپ کشمیر میں شاہی طبیب کے معزز عہدہ پر فائز تھے۔بھیرہ میں آپ کے خاندان کی ایک عورت بیوہ ہوگئی۔ایک شخص نے جو اس سے شادی کا خواہشمند تھا۔آپ کی خدمت میں لکھا کہ کیا آپ خوشی سے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس سے شادی کرلوں۔آپ نے جواب میں لکھا کہ بڑی مبارکی کی بات ہے۔وہ حیران ہو گیا کہ اس شخص کو اپنی عزت کا ذرا بھی پاس نہیں۔آپ کو جب اس کی بات کا علم ہوا تو فرمایا کہ