حیاتِ نور

by Other Authors

Page 745 of 831

حیاتِ نور — Page 745

۷۴۰ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں سے گفتگو آپ فرماتے ہیں: میں باہر آیا تو مولوی محمد علی صاحب کا ایک رقعہ مجھے ملا۔کہ کل والی گفتگو کے متعلق ہم پھر کچھ گفتگو کرنی چاہتے ہیں۔میں نے ان کو بلوالیا۔اس وقت میرے پاس مولوی سید محمد احسن صاحب خان محمد علی خاں صاحب اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب موجود تھے۔مولوی صاحب بھی اپنے بعض احباب سمیت وہاں آگئے اور پھر کل کی بات شروع ہوئی۔میں نے پھر اس امر پر زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ بحث نہ کریں۔صرف اس امر پر گفتگو ہو کہ خلیفہ کون ہو اور وہ اس بات پر مصر تھے کہ نہیں ابھی کچھ بھی نہ ہو کچھ عرصہ تک انتظار کیا جاوے۔سب جماعت غور کرے کہ کیا کرنا چاہئے۔پھر جو متفقہ فیصلہ ہو اس پر عمل کیا جاوے۔میرا جواب وہی کل والا تھا اور پھر میں نے انکو یہ بھی کہا کہ اگر پھر بھی اختلاف ہی رہے تو کیا ہوگا۔اگر کثرت رائے سے فیصلہ ہوتا ہے تو ابھی کیوں کثرت رائے پر فیصلہ نہ ہو۔درمیان میں کچھ عقاید پر بھی گفتگو چھڑ گئی جس میں سید محمد احسن صاحب نے نبوت حضرت مسیح موعود پر خوب زور دیا۔اور مولوی محمد علی صاحب سے بحث کی اور میں امید کرتا ہوں کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کو حلف دی جاوے تو وہ کبھی اس سے انکار نہیں کریں گے مگر میں نے اس بحث سے روک دیا کہ یہ وقت اس بحث کا نہیں۔اس وقت جماعت کو تفرقہ سے بچانے کی فکر ہونی چاہئے۔جب سلسلہ گفتگو کسی طرح ختم ہوتا نظر نہ آیا اور باہر بہت شور ہونے لگا اور جماعت کے حاضر الوقت اصحاب اس قدر جوش میں آگئے کہ دروازہ توڑے جانے کا خطرہ ہو گیا اور لوگوں نے زور دیا کہ اب ہم زیادہ صبر نہیں کر سکتے۔آپ لوگ کسی امر کو طے نہیں کرتے اور جماعت اس وقت بغیر کسی رئیس کے ہے تو میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ بہتر ہے کہ باہر چل کر جو لوگ موجود ہیں ان سے مشورہ لے لیا جائے۔اس پر مولوی صاحب کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ آپ یہ بات اسلئے کہتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ لوگ کسے منتخب کریں گے۔اس پر میں نے ان سے کہا کہ نہیں میں تو فیصلہ کر چکا ہوں کہ آ۔ـور