حیاتِ نور — Page 744
ات نور ۷۳۹ آگاہ کریں اور ان سے دریافت کریں کہ وہ جناب مولوی محمدعلی صاحب کی بیان کردہ باتوں سے متفق ہیں یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وصایا کے مطابق عمل کرنا چاہتے ہیں؟ سو الحمد للہ کہ جماعت کے نوے فیصدی احباب نے یہ رائے دی کہ خلیفہ کا انتخاب فورا ہونا چاہئے اور یہ کہ اختیارات کے لحاظ سے بھی اس کی پوزیشن وہی ہونی چاہیے جو حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی تھی۔مہمانوں کی آمد بیرونی جماعتوں کو جوں جوں اطلاع ہوتی جاتی تھی ان کے نمائندے بڑی سرعت کے ساتھ قادیان پانچ رہے تھے۔حتی کہ ہفتہ کے دن نماز ظہر تک قریباً ایک ہزار سے زیادہ آدمی قادیان پہنچ چکا تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کا اپنے رشتہ داروں سے مشورہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب فرماتے ہیں: ظہر کے بعد میں نے اپنے تمام رشتہ داروں کو جمع کیا۔اور ان سے اس اختلاف کے متعلق مشورہ طلب کیا۔بعض نے رائے دی کہ جن عقاید کو ہم حق سمجھتے ہیں ان کی اشاعت کے لئے ہمیں پوری طرح کوشش کرنی چاہئے اور ضرور ہے کہ ایسا آدمی خلیفہ ہو جس سے ہمارے عقائد متفق ہوں مگر میں نے سب کو سمجھایا کہ اصل بات جس کا اس وقت ہمیں خیال رکھنا چاہئے وہ اتفاق ہے۔خلیفہ کا ہونا ہمارے نزدیک مذہبا ضروری ہے۔پس اگر وہ لوگ اس امر کو تسلیم کر لیں۔تو پھر مناسب یہی ہے کہ اول تو عام رائے لی جاوے۔اگر وہ اس سے اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو اور اگر یہ بھی وہ قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جاوے اور میرے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام اہل بیت نے اس بات کو تسلیم کر لیا یہ فیصلہ کر کے میں اپنے ذہن میں خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہے گی۔مگر خدا تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔حاشیه از حضرت صاحبزادہ صاحب " مجھے ایسا ہی یاد ہے کہ گفتگو چلتے کو ہوئی۔لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جمعہ کو ہی پر مشورہ کی ہوا تھا