حیاتِ نور — Page 55
ات نور ۵۵ ”میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔مکان پر تو میرا ایسا خیال ہوتا تھا۔لیکن جب ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو خیال کرتا تھا کہ کیا فائدہ! ان کے پاس جا کر عجیب عجیب خیال اٹھتے تھے۔کبھی یہ سوچتا تھا کہ حلال حرام اور اوامر و نواہی قرآن کریم میں موجود ہی ہیں۔ان لوگوں سے کیا سیکھنا۔اگر حُسن اعتقاد سے نفع ہے۔تو مجھ کو اُن سے ویسے ہی بہت عقیدت ہے۔پھر اپنی جگہ جا کر یہ بھی خیال کرتا تھا کہ ہزار ہا لوگ جو بیعت اختیار کرتے ہیں اگر اس میں کوئی نفع نہیں تو اس قدر مخلوق کیوں مبتلا ہے۔غرضیکہ میں اسی سوچ بچار میں بہت دنوں پڑا رہا۔فرصت کے وقت ایک کتب خانہ جو مسجد نبوی کے جنوب مشرق میں تھا وہاں جا کر اکثر بیٹھتا اور کتابیں دیکھا کرتا تھا۔بہت دنوں کے بعد آخر میں نے پختہ عہد کیا کہ کم سے کم بیعت کر کے تو دیکھیں ، اس میں فائدہ کیا ہے؟ اگر کچھ فائدہ نہ ہو تو پھر چھوڑنے کا اختیار ہے۔لیکن جب میں خدمت میں حاضر ہوا تو خیال آیا کہ ایک شریف آدمی معاہدہ کر کے چھوڑ دے تو یہ بھی حماقت ہی ہے۔پہلے ہی سے اس بات کو سوچ لینا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ پھر چھوڑ دے۔آخر ایک دن میں خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کیا کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ استخارہ کرو۔میں نے عرض کیا کہ میں نے تو بہت کچھ استخارہ اور فکر کیا ہے۔لیکن شاہ صاحب نے جو نہی اپنا ہاتھ بیعت کے لئے بڑھایا میرے دل میں بڑی مضبوطی سے یہ بات آئی کہ معاہدہ قبل از تحقیقات یہ کیا بات ہے؟ اس لئے باوجود یکہ حضرت شاہ صاحب نے ہاتھ بڑھایا تھا میں نے اپنے دونوں ہاتھ کھینچ لئے۔مربع بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ بیعت سے کیا فائدہ؟ آپ نے فرمایا کہ سمعی کشفی گردد و دید بشنید مبدل گردد۔اور یہ وہ جواب ہے جو نجم الدین گبری نے دیا ہے۔پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھ بڑھائے لیکن اس وقت آپ نے اپنے ہاتھ کو ذرا سا پیچھے ہٹا لیا۔اور فرمایا تمہیں وہ حدیث یاد ہے جس میں ایک صحابی نے درخواست کی تھی کہ اسمئلك مرافقتك في الجنة۔میں نے عرض کیا۔خوب یاد ہے۔آپ نے فرمایا۔اس امر کے لئے تم کو اگر اصول اسلام سیکھنے ہوں