حیاتِ نور — Page 718
سے آگے ذکر آ رہا ہے ـور حضرت خلیفہ اسی الاول کی زوجہ محترمہ حضرت اماں جی اور صاحبزادی امتہ اتنی مرحومہ اور آپ کے سب سے بڑے صاحبزادے میاں عبد الحئی صاحب مرحوم جن کی عمر ہنوز پندرہ سال کی تھی۔ان سب نے جس صبر و استقامت اور ہمت و اخلاص کا نمونہ دکھایا۔وہ قابل رشک تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کی تقریر جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کے جسد مبارک کی زیارت کے بعد تمام لوگ مسجد نور میں جمع ہو گئے تھے۔وہاں نماز عصر پڑھی گئی۔اور بعد نماز عصر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے تقریر کی۔جس میں کلمہ شادت کے بعد فرمایا: މ اس وقت میں سب دوستوں کی خدمت میں چھوٹی سی عرض کرنی چاہتا ہوں۔اور کچے دل سے نصیحت کرنی چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت حضرت خلیفة المسیح فوت ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے رحم فرمائے۔اپنی برکتیں نازل کرے۔اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج پر انہیں ترقی دے۔اور وہ انہیں ان کے حقیقی دوست، صحت اور پیارے جن سے انہیں ساری عمر محبت رہی۔جن کی محبت بلا شبہ ان کے رگ وریشہ میں تھی۔یعنی آنحضرت ا اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان دونوں پیاروں کے ساتھ جگہ دے ( مسجد آمین کی آواز سے گونج اٹھی ) اس وقت احمدی جماعت کے اوپر بڑی بھاری ذمہ داری پڑ گئی ہے۔یہ ذمہ داری ہر بچے ، جوان اور بوڑھے پر ہے۔ساری جماعت ایک امتحان کے نیچے ہے۔وہ جو اس امتحان میں کامیاب ہو گیا اور پاس ہو گیا۔خدا تعالیٰ کا پسندیدہ اور پیارا ہوگا اور جو اس امتحان میں فیل ہو گیا وہ خدا تعالیٰ کے نیکو کاروں میں نہیں گنا جائے گا۔ہم پر ایک ذمہ داری ہے، ایک بوجھ ہے، اس کو اٹھانے اور اس ذمہ داری میں پاس ہونے کے لئے خوب تیاری کرنی چاہئے۔خوب یا درکھو کہ کوئی کام کتنا ہی اعلیٰ سے اعلیٰ اور عمدہ سے عمدہ ہو لیکن اگر ارادہ بد ہو تو وہ خطرناک ہو جاتا ہے۔دیکھو نماز کیسی اعلیٰ چیز ہے گر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُ وُنَ۔وہ نمازیں