حیاتِ نور — Page 717
۷۱۲ چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيم وایں سعادت بزور بازو نیست تا نه بخشد خدائے بخشندہ نورالدین! تجھ پر لاکھوں سلام۔خدا کے برگزیدہ مسیح موعود کے مقدس دربار سے یہ فخر ، یہ عزت مجھے ہی عطا ہوئی۔یہ پاکیزہ خلعت تیرے ہی نصیب میں تھی۔یہ ابدی خطاب تجھے ہی بخشا گیا اور لاریب کوئی دوسرا تیری اس فضیلت میں شریک نہیں ! سچ تو یہ ہے کہ حضرت مسیح پاک کو جو انصار دین ملے۔ان میں آپ کا نمبر سب سے اول اور سب سے ممتاز نظر آتا ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کی خدمات کو نوازا اور حضور کے وصال کے بعد آپ ہی کو خلافت اولی کا اعزاز عطا فر مایا اور کیوں نہ ہو ع ہر کہ خدمت کردا و مخدوم شد پھر اپنے زمانہ خلافت میں جو عظیم الشان کا رہائے نمایاں سرانجام دیئے وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔آپ ہی کے زمانہ خلافت میں خلافت اور انجمن" کا فتنہ اٹھا اور ان لوگوں نے اٹھایا جو جماعت کے سر کردہ اور کرتا دھرتا کہلاتے تھے مگر جس رعب و جلال اور جرات و ہمت کے ساتھ آپ نے اس فتنہ کا قلع قمع کیا اور خلافت کی عظمت کو قائم کیا اسے جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں مقام حاصل رہے گا۔آپ کی وفات پر نمونہ صبر و استقامت پرنمونہ آپ کی وفات کے صدمہ عظیمہ پر خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، خاندان حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور جماعت کے جملہ افراد نے صبر و استقامت کا بہت عمدہ نمونہ دکھایا۔آپ کے وصال کی خبر سنتے ہی سب لوگ دعاؤں میں لگ گئے اور اپنے مالک و خالق ، ارحم الراحمین خدا کے حضور کسی متقی ، ہر دلعزیز اور عالم با عمل جانشین کے حصول کے لئے سوال مجسم بن گئے۔رحمت باری جوش میں آئی۔دلوں پر سکینت کا نزول شروع ہوا۔خلافت کو جماعت میں سرے سے ہی مٹا دینے والوں کو اپنی سازشوں کا طلسم دھواں بن کر اڑ تا نظر آنے لگا۔مخلص مومنین کے قلوب پر روح القدس کا تسلط ہورہا تھا۔اور سعید روحیں کثرت سے کسی برگزیدہ خلیفہ کے ہاتھ پر جمع ہو جانے کے لئے بیتاب تھیں۔دشمنان خلافت اپنے ناپاک عزائم کو نا کام ہوتا دیکھ کر سراسیمہ و پریشان ہو رہے تھے۔جیسا کہ تفصیل