حیاتِ نور

by Other Authors

Page 709 of 831

حیاتِ نور — Page 709

۷۰۴ بحثوں کا کچھ حرج نہ تھا کیونکہ اگر بات حد سے بڑھے یا فتنہ کا اندیشہ ہو تو روکنے والا موجود تھا۔لیکن اب جبکہ حضرت خلیفہ اول بیمار ہیں اور سخت بیمار ہیں۔مناسب نہیں کہ اس طرح بخشیں کریں۔اس کا انجام فتنہ ہوگا۔اس لئے اختلافی مسائل پر اس وقت تک کہ اللہ تعالی خلیفہ المسیح کو شفا عطا فرمائے اور آپ خودان بحثوں کی نگرانی کر سکیں، نہ کوئی تحریر لکھی جائے اور نہ زبانی گفتگو کی جائے تا کہ جماعت میں فتنہ نہ ہو۔یہ اشتہار لکھ کر میں نے مولوی محمد علی صاحب کے پاس بھیجا کہ آپ بھی اس پر دستخط کر دیں تا کہ ہر قسم کے خیالات کے لوگوں پر اس کا اثر ہو اور فتنہ سے جماعت محفوظ ہو جائے۔مولوی محمد علی صاحب نے اس کا یہ جواب دیا کہ چونکہ جماعت میں جو کچھ اختلاف ہے اس سے عام طور پر لوگ واقف نہیں۔ایسا اشتہار ٹھیک نہیں۔اس سے دشمنوں کو واقفیت حاصل ہوگی اور ہنسی کا موقعہ ملے گا۔بہتر ہے کہ قادیان کے لوگوں کو جمع کیا جاوے اور اس میں آپ بھی اور میں بھی تقریریں کریں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ اختلافی مسائل پر گفتگو ترک کر دیں۔گو میں حیران تھا کہ اظہار الحق نامی ٹریکٹوں کی اشاعت کے بعد لوگوں کا اختلاف سے ناواقف ہونا کیا معنے رکھتا ہے؟ مگر میں نے مولوی صاحب کی اس بات کو قبول کر لیا۔میں اس وقت نہیں جانتا تھا کہ یہ بھی ایک دھو کہ ہے جو مجھ سے کیا گیا ہے لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے مدعا کے پورا کرنے کے لئے کسی قریب اور دھوکہ سے بھی پر ہیز نہیں کیا اور اس اشتہار پر دستخط کرنے سے انکار کی وجہ یہ نہ تھی کہ عام طور پر معلوم ہو جاوے گا کہ جماعت میں کچھ اختلاف ہے بلکہ ان کی غرض کچھ اور تھی۔آپ کی بیماری کے ایام میں ایک خاص اجتماع " قادیان کے لوگ مسجد نور میں جو سکول کی مسجد ہے اور خان محمدعلیخاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کی کوٹھی کے قریب ہے جہاں کہ ان دنوں حضرت خلیفتہ المسیح بیمار تھے۔جمع ہوئے اور میں اور مولوی محمد علی صاحب تقریر کرنے کے لئے وہاں گئے۔مولوی محمد علی صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ پہلے میں تقریر کروں اور میں ـور