حیاتِ نور

by Other Authors

Page 708 of 831

حیاتِ نور — Page 708

ــاتِ نُور مساکین فنڈ سے نہیں، کچھ قرض حسنہ جمع کیا جائے۔لائق لڑکے ادا کریں یا کتب جائداد وقف علی الاولاد ہو۔میرا جانشین متقی ہو۔ہر دلعزیز ، عالم باعمل، حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی درگزر کو کام میں لا دے۔میں سب کا خیر خواہ تھا وہ بھی خیر خواہ رہے۔قرآن و حدیث کا درس جاری رہے۔والسلام - نور الدین - ۴ مارچ ۱۹۱۴ء۔جب آپ وصیت لکھ چکے تو جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کو جو پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے، ارشاد فرمایا کہ اسے پڑھ کر لوگوں کو سنادیں۔پھر دوبارہ اور سہ بارہ پڑھوائی اور پھر دریافت فرمایا کہ کیا کوئی بات رہ تو نہیں گئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: مولوی محمد علی صاحب جو اپنے دل میں خلافت کے مٹانے کی فکر میں تھے اور تدابیر سوچ رہے تھے۔اس وصیت کو پڑھ کر حیران رہ گئے اور اس وقت ہر شخص ان کے چہرہ پر ایک عجیب قسم کی مردنی اور غصہ دیکھ رہا تھا جو حضرت خلیفہ اول کے وصیت لکھوانے کے باعث نہ تھا بلکہ اپنی سب کوششوں پر پانی پھرتا ہوا دیکھنے کا نتیجہ تھا مگر حضرت خلیفہ اول کا رعب ان کو کچھ بولنے نہ دیتا تھا۔باوجود مخالف خیالات کے انہوں نے اس وقت یہی لفظ کہے کہ بالکل درست ہے مگر آئندہ واقعات بتا ئیں گے کہ کسی مرید نے کسی خادم نے ، کسی اظہار عقیدت کرنے والے نے اپنے پیر اور اپنے آقا اور اپنے شیخ سے عین اس وقت جبکہ وہ بستر مرگ پر لیٹا ہوا تھا ، اس سے بڑھ کر دھوکہ اور فریب نہیں کیا جو مولوی محمد علی صاحب نے کیا۔۳۶ اختلافی مسائل کا چرچا آپ فرماتے ہیں: حضرت خلیفہ اسیخ کی بیماری کی وجہ سے چونکہ نگرانی اٹھ گئی تھی اور کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔اختلافی مسائل پر گفتگو بہت بڑھ گئی اور جس جگہ دیکھو۔یہی چرچا رہنے لگا۔اس حالت کو دیکھ کر میں نے ایک اشتہار لکھا۔جس کا مضمون تھا کہ جس وقت کہ حضرت خلیفہ اول تندرست تھے۔اختلافی مسائل میں ہماری