حیاتِ نور

by Other Authors

Page 42 of 831

حیاتِ نور — Page 42

۴۲ منشی صاحب کے درس میں شمولیت حضرت منشی صاحب روزانہ بعد نماز مغرب خود قرآن شریف کا لفظی ترجمہ پڑھایا کرتے تھے ایک روز آپ بھی اُنکے درس میں تشریف لے گئے۔وہاں یہ سبق تھا کہ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ آپ نے سوال کرنے کی اجازت چاہی۔مینشی صاحب نے بخوشی اجازت دی۔فرمایا: یہاں بھی منافقوں کا ذکر ہے اور نرم لفظ بولا ہے یعنی بَعْضُهُم إِلى بَعْضٍ اور اس سورۃ کے ابتداء میں جہاں انہیں کا ذکر ہے وہاں بڑا تیز لفظ ہے۔اِذَا خَلَوْا إِلى شِيَاطِينِهِمْ۔اس نرمی اور سختی کی وجہ کیا ہوگی۔" منشی صاحب نے فرمایا۔آپ ہی بتائیے۔آپ نے فرمایا: ”میرے خیال میں ایک بات آتی ہے کہ مدینہ منورہ میں دو قسم کے منافق تھے۔ایک اہل کتاب، ایک مشرک۔اہل کتاب کے لئے نرم یعنی بعضہم کا نرم لفظ اور مشرکین کے لئے سخت إلى شياطينهم بولا ہے۔" منشی صاحب یہ عجیب نکتہ سُن کر اپنی مسند پر سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے پاس آکر فرمایا کہ اب آپ وہاں بیٹھیں اور میں بھی اب قرآن شریف پڑھوں گا۔آپ فرماتے ہیں: قدرت الہی ! کہ ہم وہاں ایک ہی لفظ پر قرآن کریم کے مدرس بن گئے“۔قاضی شہر کے حضرت شاہ الحق کی نسبت سخت لفظ بولنے پر آپ کا اظہار غیرت ایک روز حضرت منشی صاحب کے دربار میں قاضی شہر نے حضرت شاہ الحق کی نسبت کوئی سخت لفظ بولا۔آپ برداشت نہ کر سکے اور غیرت کی وجہ سے وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے اور اس روز کھانا کھانے کے لئے بھی منشی صاحب کے ہاں نہیں گئے۔منشی صاحب کی آپ سے محبت حضرت منشی صاحب کی محبت کا اندازہ کیجئے کہ اس روز انہوں نے بھی کھانا نہیں کھایا۔دوسرے روز انہوں نے کسی آدمی سے دریافت کیا کہ نورالدین عصر کی نماز کہاں پڑھتا ہے؟ اس نے کہا تو شہ خانہ کے پاس کی مسجد میں۔منشی صاحب وہاں پہنچے۔آپ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔منشی صاحب آپ کے داہنی طرف آکر بیٹھ گئے۔آپ نے جو سلام پھیرا اور کہا السلام علیکم و رحمتہ اللہ منشی صاحب فوراً