حیاتِ نور

by Other Authors

Page 595 of 831

حیاتِ نور — Page 595

ات نور ۵۹۰ اعتقادات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مثلاً شہروں کے کاروباری آدمیوں کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ رات دن میں پانچ دفعہ نماز مسلمانوں کی سی پڑھیں۔لیکن پھر بھی ہمارے خیال میں وہ مسلمان پکے ہو سکتے ہیں۔کیونکہ خدا پر ان کا اعتقاد ہی کافی ہے۔وہ غالبا اپنی خاموش دعا اللہ تعالیٰ کے حضور میں ارسال کرتے ہیں کہ وہ ہر امر میں ان کو ہدایت دے اور ان کے دل کو سیدھا رکھے۔اور گو ان کو اپنا سر نیاز زمین پر رکھنے کا موقعہ نہ ملے۔تا ہم ان کی یہ دعا یقینا قبول ہوتی ہے۔اس دنیا میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں۔جو مفید تو ہیں مگر ضروری نہیں۔آگے چل کر لارڈ موصوف شراب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو اس معاملہ میں ہمارے لئے ضروری ہے وہ یہ بات ہے کہ ہمارا اپنے آپ پر قابور ہے جو لوگ شراب پینے والے ہیں یا پی کر ترک کر دینے والے ہیں۔وہ ان لوگوں سے بدرجہا مفید ہیں جنہوں نے بھی شراب نہیں پی۔جو شخص میدان میں نکلنے سے گھبراتا ہے۔وہ بزدل ہے۔مفید وہی ہے جو میدان میں جا کر بہادرانہ کار نمایاں کرتا ہے“۔محلے اس بیان کے بعد لارڈ صاحب موصوف کا اسلام کسی مزید تعارف کا محتاج نہیں۔لیکن خواجہ صاحب کی ستم ظریفی دیکھئے کہ انہوں نے تمام دنیا میں یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ ان کے ذریعہ سے ایک لارڈ مسلمان ہو گئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خواجہ صاحب کے اس پراپیگنڈہ کی وجہ سے بہت سے احمدیوں کو ھو کر گھی اور انہوں نے خواجہ صاحب کی اس کا میابی کو تائید الہی سمجھا اور وہ حضرت خلیفہ اسیخ اول کی وفات کے بعد لاہوری فریق کے ساتھ مل گئے۔مگر جوں جوں یہ حقیقت طشت از بام ہوتی گئی کہ لارڈ ہیڈلے کے اسلام لانے میں خواجہ صاحب نے ذرہ بھر کوشش نہیں کی تھی۔وہ کشاں کشاں لاہوری فریق کو چھوڑ کر جماعت قادیان کے ساتھ منسلک ہوتے گئے۔اور اب بہت تھوڑے لوگ رہ گئے ہیں جو ابھی تک ان لوگوں کے ساتھ چھٹے ہوئے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی روحانی بینائی عطا فرمائے اور وہ اس جماعت میں شمولیت اختیار کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو صحیح رنگ میں اکناف عالم میں پھیلا رہی ہے۔اللہم آمین۔قارئین کرام کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے اور اسے ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ شروع شروع