حیاتِ نور — Page 498
ـور ۴۹۴ میں بند کرا کر اپنا انگوٹھا لگایا۔اور پھر ایک دوسرے کاغذ پر بھی کچھ لکھ کر وہ بھی ایک لفافہ میں بند کرادیا۔اس دوسرے کاغذ میں ایک سطر شیخ تیمور صاحب سے بھی لکھوائی اور نیچے اپنے دستخط کر دیئے اور ان کی اشاعت سے منع کیا۔اس لئے ہر دو کا مضمون شائع نہیں کیا گیا۔اور امید ہے کہ حضرت صاحب کی زندگی میں ان کی اشاعت کی ضرورت بھی نہ ہوگی۔اللہ تعالیٰ حضرت صاحب کو مدت تک خدام کے سر پر قائم رکھے۔لیکن جب قوم پر مصیبت کا دن آئے گا۔کہ حضرت خلیفہ اسیح سلمہ الرحمن ان سے بظاہر جدا ہوں۔اس وقت اپنے مرشد کی علیحدگی کے غم سے جو افسردگی قوم پر چھائے گی۔اس کو دور کر کے ملت احمد یہ میں دوبارہ زندگی پیدا کرنے والی امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ انہیں الفاظ کی متابعت ہوگی۔جوان بند لفافوں میں درج ہیں۔ناظرین گزشتہ باب میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت خلیفہ امیج اول گوگھوڑے سے گرنے کے کچھ دن بعد جب طبیعت پر کچھ بوجھ سا معلوم ہونے لگا۔تو شیخ تیمور صاحب ایم۔اے کو بلا کر علیحدگی میں ایک وصیت لکھ کر لفافے میں بند کر کے دی اور ان سے عہد لیا کہ میری زندگی میں اس راز کا افشا نہ ہو۔مگر خلافت کے مخالف لوگوں نے لیمپ کی گرمی دے کر وہ لفافہ کھول کر پڑھ لیا۔حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل جو ان کے خیال میں محو خواب تھے۔وہ یہ ساری کاروائی دیکھ رہے تھے۔اب ناظرین کو اس امر کا اندازہ لگانے میں یقیناً کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی کہ یہ لوگ کیوں سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی مخالفت کرتے تھے؟ اپنے پیارے امام کی اس وصیت سے بجائے اس کے کہ ان لوگوں کے قلوب آپ کی طرف جھک جاتے الٹا انہوں نے زیادہ مخالفت شروع کر دی۔نہ صرف سید نامحمود کی بلکہ اپنے پیارے امام حضرت خلیفتہ المسیح مولا نا حکیم نورالدین صاحب کی بھی ! کہ یہ کیوں سید نامحمود کے اس قدر گرویدہ ہیں۔۲۲ جنوری ۱۹۱۱ ء رات بڑے آرام سے گزری۔بخار نہ رات کو تھا نہ دن کو۔ڈاکٹری رپورٹ اور نصیحت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب بیان فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ دورہ ماشرا ( اری سیلس ) جو کہ دوبارہ چیرا دینے کے بعد چہرے پر ہو گیا تھا۔اب قریباً سب اتر گیا ہے اور بخار بھی اتر گیا ہے۔