حیاتِ نور

by Other Authors

Page 486 of 831

حیاتِ نور — Page 486

" ــاتِ تُـ ـور ۴۸۲ ئیں۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب پر ان ایام میں بہت زیادہ کام کا بوجھ رہا۔کیونکہ آپ اخبار بدر کے ایڈیٹر بھی تھے اور حضرت خلیفہ المسیح کے پرائیویٹ سیکریٹری بھی۔اس لئے حضور کی ساری ڈاک آپ ہی کے ہاتھوں نکلتی تھی۔جلسه سالانه ۱۹۱۰ء اب جلسہ سالانہ بھی قریب آرہا تھا۔حضرت کی طبیعت بھی خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے دن بدن اچھی ہو رہی تھی۔ریلوے حکام نے تیسرے درجہ کے کرائے میں یہ رعایت منظور کر لی تھی کہ جو اشخاص ایک سو میل سے زیادہ فاصلہ سے بغرض شمولیت جلسہ آنا چاہیں۔تو انہیں اصل کرایہ سے ڈیوڑھا کرایہ دینے پر آمدروفت کی اجازت ہوگی۔مگر اس کے لئے یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ یلکٹ وارد بر سے لے کر ۲۶ ؍ دسمبر تک کام آسکیں گے۔بٹالہ سے قادیان تک آمد ورفت کا ذریعہ اس جگہ اس امر کا ذکر کرنا بھی غالباً خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے لے کر ۱۹۲۸ء تک بھی جب تک کہ قادیان میں ریل گاڑی آنا شروع نہیں ہوئی۔بٹالہ سے قادیان پہنچنے کا یہ انتظام تھا کہ اس زمانہ میں پرانی قسم کے اگے چلا کرتے تھے۔مالدار اور درمیانی قسم کے لوگ ان پر سوار ہو کر قادیان پہنچا کرتے تھے۔اور غربا یہ قریباً گیارہ میل کا فاصلہ پیدل طے کر کے دیار حبیب میں پہنچ جاتے تھے۔جلسہ سالانہ پر چونکہ آنے والوں کی کثرت ہوا کرتی تھی۔اس لئے مرکز سلسلہ کی طرف سے جو ناظم استقبال مقرر ہوا کرتے تھے۔وہ معہ اپنے معاونین کے بٹالہ پہنچ جایا کرتے تھے۔اور تمام مہمانوں کے بستر اور ضروری سامان کے اوپر چیٹیں چسپاں کر کے اپنے انتظام کے ماتحت چھکڑوں پر لاد کر قادیان پہنچا دیا کرتے تھے۔راستہ میں سردی کا موسم ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ آگ جلانے کا انتظام ہوا کرتا تھا۔تا کہ دوست آگ تاپ کر سردی کی شدت سے بچ سکیں۔چونکہ آنے والوں کی بہت کثرت ہوا کرتی تھی۔اس لئے اس سڑک پر جو بٹالہ سے قادیان کو جاتی ہے۔عموماً گڑھے پڑے رہتے تھے۔یہ مختصر حالات اس لئے ذکر کر دیئے گئے ہیں۔تا آنے والی نسلوں کو یہ معلوم ہو کہ ان کے بزرگ کس قدر تکالیف برداشت کر کے اپنے امام کی ملاقات کے لئے مرکز سلسلہ میں جایا کرتے تھے۔الحمد للہ کہ خاکسار راقم الحروف نے بھی یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔