حیاتِ نور — Page 484
ـور ۴۸۰ ناراض تھے۔فرمایا کہ میں تمہاری بنائی ہوئی مسجد میں بھی کھڑا ہونا پسند نہیں کرتا۔چنانچہ اس موقعہ پر حضور نے حضرت مسیح موعود کے زمانہ کے بنے ہوئے حصہ مسجد میں کھڑے ہو کر تقریر فرمائی۔مگر آگے پیچھے حضور نے بنے ہوئے حصہ مسجد میں بھی نمازیں پڑھاتے اور خطبے پڑھتے تھے۔ایسا ہی اگر صدرانجمن کے سارے ممبر حضور کے مطیع و منقاد ہوتے۔تو آپ یقینا ان کی معرفت بھی قوم کا روپیہ اپنی ذات پر خرچ کرنے کے لئے قبول فرمالیتے۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین کے گزارے کا انتظام مسلمانوں نے بیت المال سے نہیں کیا تھا ؟ اگر بیت المال سے قوم کا روپیہ لینا نا جائز ہوتا تو خلفاء راشدین ہرگز ہرگز اس روپیہ کو قبول نہ فرماتے۔جماعت احمدیہ کو پیغام ۲۹ نومبر ۱۹۱۶ء کو آپ نے ضعف کے باوجود جماعت کو ایک پیغام دیا۔جس میں ارشاد فرمایا کہ ”مجھ پر جو ابتلاء اس وقت آیا ہے۔یہ میرے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی غریب نوازیوں، رحمتوں اور فضلوں کا نمونہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے بہت سے دلوں کی حالت کو جن کے ساتھ محبت میرے لئے ضروری تھی مجھ پر ظاہر فرما دیا۔بعض ایسے نفوس ہیں جن کی مجھے خبر نہ تھی کہ وہ میرے ساتھ اور جماعت کے ساتھ محبت کا کیا تعلق رکھتے ہیں لیکن اس بیماری میں جو خدمت رات دن انہوں نے کی ہے اس سے ان کے اخلاص کا اظہار ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان نفوس کے صفات کو ظاہر کر دیا۔یہ خدا تعالیٰ کی غریب نوازی ہے کہ وہ لوگ دل سے ایسی خدمت کر رہے ہیں۔میں ان تمام لوگوں کا جنہوں نے اس وقت میری ہمدردی کی ہے شکر گزار ہوں“۔آخر میں فرمایا: ”میرا دل مطمئن ہے۔اس ذات کے برابر میں مجھے کوئی محبوب اور پیارا نہیں۔نہ کوئی اس جیسا میرا حامی و مددگار ہے۔اس کا کرم اور فضل حد سے زیادہ میرے ساتھ شامل ہے۔ایسے وقت میں مجھ کو اس نے ایسی ایسی جگہ سے رزق پہنچایا ہے جہاں انسان کا وہم و گمان نہیں پہنچ سکتا۔گو یا طب کے پیشے میں جو ستاری تھی ان دنوں میں اس کو بھی دور کر دیا ہے۔اور مخفی طریقوں سے رزق دیا ہے۔میرے گھر میں جو کچھ رزق پہنچا ہے اس میں کسی کا کوئی احسان جلوہ گر نہیں۔