حیاتِ نور

by Other Authors

Page 476 of 831

حیاتِ نور — Page 476

ـور ۴۷۲ سے گر کر کسی قسم کی گھبراہٹ و اضطراب کا اظہار نہیں کیا۔آپ کو اٹھایا گیا۔اور زخم پر پانی بہایا گیا آپ پورے استقلال کے ساتھ اٹھے۔اور پیدل چلے آئے۔بالآخر ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اور ڈاکٹر الہی بخش اور ڈاکٹر شیخ عبداللہ صاحب نے زخموں کو درست کیا۔اور بدوں کلورا فارم سے عمل کے زخم کوسی دیا۔حضرت کی عمره ۸ سال کے قریب ہے۔اور علی العموم آپ پر اسہال کی بیماری حملہ کرتی رہتی ہے۔لیکن دیکھنے والے دیکھتے تھے کہ زخم کے بیٹے جانے کے وقت آپ کے چہرہ پر یا بدن کے کسی حصہ میں کوئی شکن تک نہیں پڑا۔استقلال اور ضبط نفس کا ایسا نمونہ تھا کہ وہ کامل ایمان کے بدوں ناممکن ہے۔اس واقعہ کو سن کر جب مردوں اور عورتوں کا اثر دحام ہو گیا تو آپ نے عورتوں کو یہ پیغام دیا کہ ان سے کہہ دو کہ میں اچھا ہوں۔میں گھبراتا نہیں۔اور نہ میرا دل ڈرتا ہے۔وہ سب اپنے گھروں کو چلی جائیں اور اپنا نام لکھوا دیں۔میں ان کے لئے دعا کروں گا۔پھر اپنے خدام سے فرمایا کہ میں تمہارے لئے دعا کروں گا“۔جناب ایڈیٹر صاحب الحکم لکھتے ہیں: ” میں نے ایک موقعہ پر کسی ذریعہ سے عرض کیا۔کہ اگر پسند کریں۔تو حاذق الملک کو دہلی سے بلواؤں۔اور مجھے یقین تھا۔اور بحمد للہ ہے کہ وہ حضرت کی علالت کی خبر پا کر فوراً آ جائیں۔اور ان کے طبی مشورہ کی ضرورت ہو۔تو وہ خوشی سے دیں۔مگر اس کا جواب جو آپ نے دیا۔وہ آب زر سے لکھنے میں بھی پوری قدر نہیں پاتا۔فرمایا: خدا پر توکل کرو، میرا بھروسہ نہ ڈاکٹروں پر ہے نہ حکیموں پر میں تو اللہ تعالی پر بھروسہ کرتا ہوں ، اور اس پر تم بھروسہ کرو“۔ایک عینی شاہد کا بیان محترم جناب شیخ رحمت اللہ صاحب مہاجر قادیان جو تقسیم ملک کے بعد لائلپور میں مقیم ہو گئے تھے اور وہیں آپ نے وفات پائی۔ان کا بیان ہے کہ