حیاتِ نور — Page 451
ـور ۴۴۷ دی تھی اس لئے کافی تعداد میں احباب جلسہ سالانہ میں شریک ہوئے تھے۔اس سال بھی جماعت چاہتی تھی کہ حسب سابق ریل کے کرایہ میں رعایت مل جائے۔مگر چونکہ دسمبر میں مسافروں کی زیادہ آمد ورفت کی وجہ سے رعایت نہ مل سکی۔اس لئے صدر انجمن احمدیہ نے یہی فیصلہ کیا کہ جلسہ بجائے دسمبر کے مارچ کی ایسٹر کی تعطیلات میں کر لیا جائے۔" وظائف حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے جب لوگ یہ سوال کیا کرتے تھے کہ حضرت! ہمیں کوئی وظیفہ بتائیں۔جسے ہم ترقی درجات کے لئے بجالاتے رہیں تو آپ ہمیشہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ استغفار لاحول، درود شریف اور احمد کثرت کے ساتھ پڑھا کرو۔ان وظائف کا ذکر آپ کی تحریرات مندرجہ اخبارات بدر اور الحکم میں کثرت کے ساتھ آتا ہے۔تعمیر مسجد نور و بورڈنگ ہاؤس نیز توسیع جامع مسجد اقصیٰ حضرت خلیفہ المسیح الاول کا زمانہ عمارات سلسلہ کی تعمیر کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔اس سلسلہ میں جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی جد و جہد اور تگ و دو کا خاص تعلق ہے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ساتھ چونکہ مسجد کی اشد ضرورت تھی۔اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بورڈنگ ہاؤس سے بھی پہلے مسجد تعمیر کی جائے۔چنانچہ اس کارخیر کے لئے اڑھائی ہزار روپیہ چندہ کر کے حضرت میر صاحب نے صدر انجمن کو دیا اور اڑھائی ہزار جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کی ہمشیرہ مرحومہ کی وصیت کا موجود تھا۔علاوہ ازیں جامع مسجد کی توسیع کا سوال بھی درپیش تھا۔اس کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جلسہ سالانہ سے پہلے پہلے ایک بڑا کمرہ پرانی مسجد کے برابر چوڑائی میں اور لمبائی میں قریباً ۴۶ فٹ۔اور اس نئے اور پرانے کمرے کے سامنے ایک برآمدہ جوہ ۸ فٹ سے زیادہ لمبا ہو گا تیار کیا جائے اور اس کے لئے تین ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ کیا گیا۔یادر ہے کہ مدرسہ تعلیم الاسلام اور اس کے بورڈنگ وغیرہ عمارات کے لئے پچاس گھماؤں زمین خریدی گئی تھی۔جلسہ سالانه ۱۹۱۰ء پیچھے بیان کیا جا چکا ہے کہ بعض وجوہات کی بناء پر جلسہ سالانہ دسمبر ۱۹۰۹ ء مارچ ۱۹۱۰ء تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔اللہ تعالٰی کے فضل سے یہ جلسہ ۲۵ مارچ کو بعد نماز جمعہ شروع ہوا۔اور ۲۷ مارچ