حیاتِ نور

by Other Authors

Page 435 of 831

حیاتِ نور — Page 435

ہے جو اس نے حضرت مریم علیہا السلام پر نازل کئے اور بتایا ہے کہ کس طرح ان کے پیدا ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے سامان مہیا کئے کہ جن کے نتیجہ میں ان کی نہایت اعلیٰ درجہ کی تربیت ہوئی اور وہ ایک خدا نما وجود اور صدیقہ بن نہیں۔ان مریمی صفات کے ذکر پر حضور کا ذہن قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کی طرف منتقل ہو گیا جو اس نے خود حضور کی ذات والا صفات پر کئے تھے اور حضور نے محبت الہیہ کے جذبات سے سرشار ہو کر فرمایا: و میں تمہیں کہاں تک سناؤں۔سناتے سناتے تھک گیا۔مگر خدا کی نعمتوں کے بیان کرنے سے میں نہیں تھکتا اور نہ مجھے تھکنا چاہئے۔اس نے مجھ پر بڑے بڑے فضل کئے ہیں۔یہاں ایک اخبار کے ایڈیٹر نے اپنی نظم چھاپی ہے " مجھے معلوم نہ تھا میں اسے پڑھتا اور سجدہ میں گر گر جاتا۔چونکہ وہ بہت درد سے لکھی ہوئی تھی اس لئے اس نے میرے دردمند دل پر بہت اثر کیا۔وہ صوفیانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی نظم تھی۔میں جس بات پر شکر کرتا ہوں وہ یہ تھی کہ خدا مجھ پر وہ وقت لایا ہی نہیں کہ (میں یہ کہوں کہ ) ” مجھے معلوم نہ تھا میں نے ہوش سنبھالتے ہی مولوی محرم علی مولوی اسماعیل، مولوی اسحاق کی کتابوں مسیحه امسلمین، تقویۃ الایمان، روایت السلمین وغیرہ کو پڑھا اور ان سے توحید کا وہ سبق پڑھا کہ ہر غلطی سے بحمد اللہ محفوظ رہا غرض خدا تعالیٰ جن کو نوازتا ہے عالم تصحيحا اسباب کو بھی ان کا خادم کر دیتا ہے۔و1 یہ نظم جس کے متعلق حضور نے فرمایا کہ اس نے میرے دردمند دل پر بہت اثر کیا۔مکرم قاضی محمد ظہور الدین صاحب اً ظہور الدین صاحب اکمل کی تھی جو ان دنوں اخبار بدر کے اسٹنٹ ایڈیٹر تھے۔اس نظم کا پہلا شعر یہ تھا عارضی رنگ بقا تھا مجھے معلوم نہ تھا سرمہ چشم فنا تھا مجھے معلوم نہ تھا مکرم قاضی صاحب اس سلسلہ میں حضور کی قبولیت دعا کا ایک عجیب واقعہ بیان فرماتے ہیں۔میں دفتر "بدر" میں حسب معمول ایک دن چار پائی پر لیٹے ہوئے بستر کو تکیہ بنائے اور آگے میز رکھے دفتر ایڈیٹر مینجر کا فرض بجا لا رہا تھا جو مجھے حضرت خلیفہ