حیاتِ نور — Page 421
ــور اتصال کے ٹوٹنے کے اور بغیر کسی کتاب میں پڑھنے کے زبانی پہنچی ہیں۔چنانچہ آپ نے پہلے اپنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کے راوی بیان فرمائے۔پھر وہ چالیس حدیثیں مجھے ایک ایک کر کے سنائیں اور ان کے معنی بتائے اور ان کی مختصر تفسیر فرمائی۔پھر مجھے ان حدیثوں کے حفظ کرنے کی ہدایت کی۔جس پر میں نے وہ حدیثیں اسی زمانہ میں یاد کر لیں۔اور اب میں بجا طور پر فخر کر کے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ چالیس حدیثیں ہیں کہ دنیا کی کوئی کتاب بھی نہ ہو تو میں یہ حدیثیں آنحضرت تک رادیوں کا نام لے کر روایت کر سکتا ہوں۔یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں پیش آیا۔اور حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب نے اپنے مطب کے مشرقی دروازہ میں بیٹھ کر ظہر کی نماز کے بعد جبکہ حافظ روشن علی صاحب بھی موجود تھے۔مجھے ان حدیثوں کا راوی بنایا اور اس وقت کی باتوں سے مترشح ہوتا تھا کہ حافظ صاحب کو بھی حضرت مولوی صاحب اس سے قبل ان حدیثوں کا راوی بنا چکے تھے۔۔۔پس میں عرض کرتا ہوں کہ (۱) بیان کیا مجھ سے میرے شیخ نورالدین اعظم بھیروی نے (۲) انہوں نے سنا اپنے شیخ عبد الغنی مجددی مدنی سے (۳) انہوں نے سنا شاہ اسحاق صاحب دہلوی سے (۴) انہوں نے سنا شاہ عبد العزیز صاحب دہلوی سے (۵) انہوں نے سنا شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی سے (1) ان سے بیان کیا ابو طاہر مدنی نے (۷) انہوں نے سنا اپنے باپ ابراہیم کروی سے (۸) انہوں نے زین العابدین سے (۹) انہوں نے اپنے باپ عبد القادر سے (۱۰) انہوں نے اپنے دادا ئیکی سے (11) انہوں نے اپنے دادا محب تام سے (۱۲) انہوں نے اپنے باپ کے چچا ابوالیمن سے (۱۳) انہوں نے اپنے باپ شہاب احمد سے (۱۴) انہوں نے اپنے باپ رضی الدین سے (۱۵) انہوں نے ابوالقاسم سے سے (۱۶) انہوں نے سید ابو محمد سے (۱۷) انہوں نے اپنے دادا ابوالحسن (۱۸) انہوں نے اپنے والد ابوطالب سے (۱۹) انہوں نے ابو علی سے (۲۰) انہوں نے اپنے والد محمد بن زاہد سے (۲۱) انہوں نے اپنے والد ابوعلی