حیاتِ نور

by Other Authors

Page 390 of 831

حیاتِ نور — Page 390

۳۸۷ تو مرید کہتا ہے کہ مرشد نے سمجھا ہی نہیں۔میں اس سے بہتر سمجھتا ہوں۔یہ بیعت کر لینے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح کی گستاخی ہے اور بیعت کے مفہوم کے ساتھ ہنسی“۔کاش! جناب مولوی محمد علی صاحب زندہ ہوتے تو میں ان سے پوچھتا کہ مولانا ! کیا آپ نے یہ الفاظ محض نمائش کے طور پر لکھتے ہیں یا واقعی مرید کو اپنے مرشد کی ایسی ہی اطاعت کرنی چاہئے؟ قصہ مکان یا حویلی کا بیان ہو رہا تھا اور یہ ذکر ہورہا تھا کہ جس شخص کے ہاتھ یہ لوگ مکان فروخت کرنا چاہتے تھے۔جب اس نے بھی مکان خرید نے سے انکار کر دیا تو ان لوگوں نے حضرت خلیفہ المسیح کے حضور بہت کچھ معذرت کی مگر یہ بھی ایک نمائش ہی تھی اور نہ دل سے یہ لوگ آپ کے مخالف تھے اور مخالفانہ پروپیگنڈہ میں کمی کی بجائے دن بدن ترقی کرتے جا رہے تھے اور لاہور میں تو ان کی مجالس میں علی الاعلان یہ تذکرے ہوتے کہ جس طرح بھی ممکن ہو آپ کو خلافت سے علیحدہ کر دینا چاہئے۔حضرت خلیفہ المسیح کو جب ان حالات کا علم ہوا تو اس رحیم و کریم انسان نے بادل نخواستہ یہ اعلان فرمایا کہ میں عید الفطر تک ان لوگوں کو موقع دیتا ہوں اگر انہوں نے اپنی اصلاح کرلی تو بہتر ورنہ انہیں جماعت سے خارج کر دیا جائے گا اب بجائے اس کے کہ یہ لوگ اپنی اصلاح کرتے انہوں نے آپس میں خط و کتابت کر کے اپنے اندرونہ کا اور بھی گھناؤنے الفاظ میں اظہار کیا۔چنانچہ حضرت میر حامد شاہ احب سیالکوٹی کو جو اُن ایام میں ان لوگوں کو سلسلہ کا خیر خواہ سمجھ کر ان کی قدر کیا کرتے تھے۔ڈاکٹر مرز الیعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب نے خطوط لکھے جو درج ذیل ہیں: " حضرت اخی المکرم۔السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته۔۔۔قادیان کے مشکلات کا سخت فکر ہے۔خلیفہ صاحب کا تلون طبع بہت بڑھ گیا ہے اور عنقریب ایک نوٹس شائع کرنے والے ہیں۔جس سے اندیشہ بہت بڑے ابتلاء کا ہے۔اگر اس میں ذرہ بھی تخالف -1 خلیفہ صاحب کی رائے سے ہو تو برافروختہ ہو جاتے ہیں۔حالات عرض کئے گئے مگر ان کا جوش فرو نہ ہوا۔اور ایک اشتہار جاری کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں آپ فرما دیں ہم اب کیا کر سکتے ہیں۔ان کا منشاء یہ ہے کہ انجمن کا لعدم ہو جائے اور ان کی رائے سے ادفی متخلف نہ ہو۔مگر یہ وصیت کا منشاء نہیں۔اس میں یہی حکم ہے کہ تم سب میرے بعد مل جل کر کام کرو۔شیخ ( رحمت اللہ ) صاحب اور شاہ