حیاتِ نور — Page 389
۳۸۶ کی کثرت رائے تھی بلکہ اس وقت میں اکیلا تھا۔انہوں نے اپنے منشاء کے مطابق ریزولیوشن پاس کر دیا۔حضرت خلیفہ المسیح اول کو اطلاع ہوئی۔آپ نے ان کو بلوایا اور دریافت کیا۔انہوں نے جوابدیا کہ سب کے مشورہ سے یہ کام ہوا ہے اور میرا نام لیا کہ وہ بھی وہاں موجود تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نے مجھے طلب فرمایا۔میں گیا تو سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔میرے پہنچتے ہی آپ نے فرمایا کہ کیوں میاں ہمارے صریح حکموں کی اس طرح خلاف ورزی کی جاتی ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں نے تو کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔آپ نے فرمایا کہ فلاں معاملہ میں میں نے یوں حکم دیا تھا۔پھر اس کے خلاف آپ نے کیوں کیا۔میں نے بتایا کہ یہ لوگ سامنے بیٹھے ہیں۔میں نے ان کو صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ اس امر میں حضرت خلیفۃ المسیح اول کی مرضی نہیں۔اس لئے اس طرح نہیں کرنا چاہئے اور آپ کی تحریر سے اجازت نہیں بلکہ ناراضگی ظاہر ہوتی ہے۔آپ نے اس پر ان لوگوں سے کہا دیکھو۔تم اس کو بچہ کہا کرتے ہو۔یہ بچہ میرے خط کو سمجھ گیا اور تم لوگ اس کو نہ سمجھ سکے۔اور بہت کچھ تنبیہ کی کہ اطاعت میں ہی برکت ہے۔اپنے رویہ کو بدلو۔ورنہ خدا تعالیٰ کے فضلوں سے محروم ہو جاؤ گئے ور اب اس مکان یا حویلی کی فروختگی کا حال سنیئے۔حضرت مولوی حکیم فضل الدین صاحب کا چھوٹا بھائی اس کی معقول قیمت دینے کے لئے تیار تھا مگر جب اسے پتہ لگا کہ حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب اس شیعہ کو مکان دینا چاہتے ہیں اور انجمن زیادہ قیمت حاصل کرنے کی وجہ سے مجھے مکان دینا چاہتی ہے تو اس نے کہا کہ میں حضرت مولوی صاحب کی ناراضگی مول لے کر ایک کوڑی کو بھی اس۔مکان کو نہیں خریدنا چاہتا۔اس پر یہ لوگ کھسیانے ہو کر رہ گئے۔آہ! ایک طرف یہ دعوئی کہ ہم آپ کو خلیفة المسیح تسلیم کرتے ہیں اور آپ کا حکم اس طرح انہیں گے جس طرح ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مانا کرتے تھے اور دوسری طرف یہ حرکات۔افسوس صد افسوس! کیا لوگ اپنے پیروں کے ساتھ یہ سلوک کیا کرتے ہیں ؟ پیر کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ مرید اپنے آپ کر مرشد کے سامنے ایک بے جان کی طرح ڈال دے اور اپنی جملہ خواہشات کو اس کے سپرد کر دے نہ یہ کہ مرشد کہتا ہے فلاں بات درست ہے