حیاتِ نور

by Other Authors

Page 16 of 831

حیاتِ نور — Page 16

کام کیا۔البتہ دونوں کا دائر وعمل الگ الگ تھا۔آقا نے چونکہ امام الزماں بن کر اپنے عملی نمونہ سے تمام دنیا کی اصلاح کا عظیم الشان کام کرنا تھا اس لئے اس کی تربیت کچہری میں رکھ کر کی گئی جہاں ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اور خادم جس کے سپر د اس کی قائم کر ، جماعت کی تعلیم و تربیت کا اہم فریضہ ہونے والا تھا اسے ایک سکول کا منتظم بنا کر ٹر یفنگ دی گئی۔اللهم صل على محمد و آل محمد - نوٹ : یہ امر کہ کسی سند سے لے کر کس سنہ تک آپ نے پنڈ دادنخاں میں ملازمت کی تھی۔اس کی تعیین کے لئے ابھی تک مجھے کوئی حوالہ نہیں مل سکا۔پنڈ دادنخاں کا ایک واقعہ آپ فرماتے ہیں: یک مرتبہ پنڈ دادنخاں میں کسی مقام پر یعنی ایک گاؤں میں میرا گزر ہوا۔وہاں ایک شخص نے میری بڑی خاطر مدارات کی معلوم ہوا کہ وہ میرے باپ کا بڑا معتقد تھا۔بزرگوں کی اولاد سمجھ کر خدمت گزاری اور طرفداری سے پیش آیا۔چلتی دفعہ اس نے کہا کہ کوئی تعویذ لکھ دو یا کوئی نصیحت کرو یا کوئی بات بتاؤ۔اس وقت مجھ کو اس آیت کا خیال آیا لا أقولُ لكُم عِندِي خَزَائِنُ اللهِ وَلَا أعْلَمُ الغَيب "اتح اور مجھ کو بڑا ہی سرور حاصل ہوا۔ینڈ دادنخان میں خواب پنڈ دادنخاں میں آپ نے ایک فوت شدہ شخص کو جو آپ کا ہموطن تھا خواب میں دیکھا کہ وہ بیمار ہے۔آپ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں نے سُنا ہے کہ جو مر جاتا ہے۔وہ بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔اس پر اس شخص نے ایک لڑکی کا بازو پکڑ کر کہا کہ میں اس لڑکی پر دنیا میں عاشق تھا۔اس واسطے اب بیمار اور مبتلائے عذاب ہوں۔آپ جب بھیرہ میں تشریف لائے تو اس کے ایک دوست سے آپ نے پوچھا کہ فلاں شخص جس لڑکی کے عشق میں فوت ہوا ہے کیا آپ مجھے ہلڑ کی دکھا سکتے ہیں؟ وہ حیران ہوا کہ انہیں کیسے پتہ لگا؟ چنانچہ اس نے آپ سے پوچھا کہ آپ کو یہ بات کس نے بتلائی آر نے فرمایا کہ بھا عشق بھی کبھی مخفی رہ سکتا ہے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ اس نے کہا جب میرے اس دوست کا انتقال ہوا ہے تو اس کا سر میری ران پر