حیاتِ نور — Page 311
۳۰۹ سات اور ان پر ہنسی اڑائی جاتی ہے تو تم ایسی مجلس سے فورا اٹھ کر چلے جایا کرو اور اس وقت تک وہاں نہ بیٹھا کرو جب تک کہ وہ اس دلآزار طریق کو چھوڑ کر مہذبانہ انداز گفتگواختیار نہ کریں۔حضرت خلیفہ المسیح الاول جو اس وفد کے امیر تھے، سر نیچا کر کے بیٹھے رہے اور باقی دوست بھی اپنے کئے پر پشیمان نظر آتے تھے۔حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بیان ہے کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور جس طرح حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ناراضگی کے موقعہ پر یہ الفاظ کہے تھے کہ رَضِيْتُ بِاللَّهِ رَبَّا وَ بِالْإِسْلَامِ دِيْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيَّا- ای قسم کے الفاظ انہوں نے کہے اور پھر کہا کہ ذہول ہو گیا۔یعنی ہر آدمی سے بعض موقعوں پر غلطی ہو جاتی ہے۔ہم سے بھی ذہول کے ماتحت یہ غلطی ہوئی ہے۔حضور در گذر فرمائیں۔آخر بہت دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا غصہ فرو ہوا۔اور آپ نے اس غلطی کو معاف فرمایا۔مگر جہاں آپ نے جماعت کے دوستوں پر اس لئے اظہار ناراضنگی فرمایا کہ وہ ایسی مجلس سے اٹھ کر کیوں نہ چلے آئے وہاں آپ کو اس امر سے خوشی بھی ہوئی کہ ایسی شدید اشتعال انگیزی کے باوجود جماعت نے صبر اور برداشت کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے۔چنانچہ حضور چشمہ معرفت میں فرماتے ہیں: اگر پاک طبع مسلمانوں کو اپنی تہذیب کا خیال نہ ہوتا اور بموجب قرآنی تعلیم کے صبر کے پابند نہ رہتے اور اپنے غصہ کو تھام نہ لیتے تو بلا شبہ یہ بدنیت لوگ ایسی اشتعال دہی کے مرتکب ہوئے تھے کہ قریب تھا کہ وہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا۔مگر ہماری جماعت پر ہزار آفرین ہے کہ انہوں نے بہت عمدہ نمونہ صبر اور برداشت کا دکھایا اور وہ کلمات آریوں کے جو گولی مارنے سے بدتر تھے ان کوسن کر چپ کے چپ رہ گئے۔۱۱۵ اسی طرح فرماتے ہیں: اگر میری طرف سے اپنی جماعت کے لئے صبر کی نصیحت نہ ہوتی اور اگر میں