حیاتِ نور — Page 297
۲۹۵ ہو کر اس کے مکالمات سے مشرف ہوں گے۔مبارک ہیں وہ لوگ۔29 رسالہ تعلیم الاسلام" میں آپ کے مضامین ود جولائی 1907 ء میں استاذی المکرم حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کی ادارت میں ایک رسالہ بنام تعلیم الاسلام " جاری کیا گیا۔رسالہ کی اصل غرض و غایت تفسیر القرآن کی اشاعت تھی۔چنانچہ اس رسالہ میں حضرت مولوی صاحب کی عربی تفسیر کا خلاصہ اور آپ کے درس القرآن کے نوٹوں کے علاوہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کی تفسیر بھی شائع ہوا کرتی تھی۔مئی ۱۹۰۷ ء میں یہ رسالہ ریویو آف ریلیچنز اردو کے ساتھ بطور ضمیمہ چھپنے لگا۔جلسہ سالانہ ۱۹۰۶ء میں تقریریں جلسہ سالانہ ۱۹۰۲ء میں حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ضرورۃ الامام" کے موضوع پر ایک نہایت ہی لطیف تقریر فرمائی۔" ۲۸ دسمبر ۱۹۰۶ء کو آپ نے نماز جمعہ سے قبل ایک تقریر میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے جاری کردہ رسالہ "تشحید الا ذھان“ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس رسالہ کے ذریعہ نو جوان طلباء کی دینی معلومات میں اضافہ ہوگا۔باہمی اخوت بڑھے گی اور حضرت اقدس کے ان بیش قیمت اقوال کی اشاعت ہوگی جو حضرت اندرون خانہ میں فرماتے ہیں۔اور یہ ایک ایسا کام ہے جسے حضرت صاحبزادہ صاحب کے بغیر اور کوئی نہیں کر سکتا۔نیز اس رسالہ کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ اس میں حضرت اقدس کے تحریر فرمودہ عربی فقرات کی اشاعت ہوتی رہے۔پس احباب کو چاہئے کہ وہ اس رسالہ کی اشاعت اور خریداری میں حصہ لے کر ان اغراض و مقاصد کو پورا کرنے کے لئے حضرت صاحبزادہ صاحب کے ممد و معاون ثابت ہوں۔۲۹ / دسمبر ۱۹۰۶ء کو حضرت اقدس۔ا ر بجے صبح سیر کی غرض سے بہشتی مقبرہ کی طرف تشریف لے گئے اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر اہل قبور کے واسطے دعا کی۔حضرت مولانا حکیم صاحب (خلیفة المسیح الاول) نے بھی وعظ ونصیحت کے رنگ میں احمدی احباب کو تلقین کی کہ وہ تفقہ فی الدین حاصل کرنے کے لئے اپنے میں سے ایک ایک آدمی اور اس کا خرچ بھیجا کریں تا وہ دین سیکھ کر واپس جائے اور اپنے اہل شہر کو پیغام حق پہنچائے۔ا