حیاتِ نور

by Other Authors

Page 268 of 831

حیاتِ نور — Page 268

رو العزیز ) جن کی شادی حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی صاحبزادی حضرت محمودہ بیگم صاحبہ سے قرار پائی تھی اور مہر ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا تھا، کا خطبہ نکاح حضرت مولوی صاحب نے ابتدائے اکتوبر ۱۹۰۲ء میں رڑ کی (یو پی) جا کر پڑھا۔جہاں حضرت ڈاکٹر صاحب بسلسلہ ملازمت مقیم تھے۔حضرت ڈاکٹر صاحب موصوف ایک فرشتہ خصلت انسان تھے اور خاکسار راقم الحروف کے ساتھ بہت ہی نرمی اور تلطف سے پیش آیا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے جب اللہ تعالی نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اس وقت میری عمر اند از ۱۵-۱۶ سال کی تھی۔حضرت ڈاکٹر صاحب کے لڑکے خلیفہ صلاح الدین مرحوم قریباً میرے ہم عمر تھے۔آپ نے میرا ان کے ساتھ تعارف کروایا اور فرمایا کہ یہ تمہارا دوست ہے۔اپنی ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ کئی سال تک مسلسل نور ہسپتال قادیان کے انچارج رہے۔ایک مرتبہ سردی کے موسم میں مجھے ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا۔آپ دھوپ میں تشریف فرما تھے۔یہ دیکھ کر میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی کہ مجھے دیکھ کر آپ کرسی سے اُٹھے اور ہسپتال کے اندر تشریف لیجا کر میرے لئے ایک کرسی اٹھا لائے اور نہایت ہی محبت سے مجھے اس پر بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔اللهم صل على محمد و آل محمد حضرت ڈاکٹر صاحب کا ذکر آنے پر میں تصورات کی دنیا میں گم ہو گیا اور مجھے اپنے اسلام قبول کرنے کے بعد کا یہ ابتدائی واقعہ یاد آ گیا۔ورنہ ذکر تو یہ ہورہا تھا کہ حضرت مولوی صاحب نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ نکاح پڑھا اور واپس قادیان پہنچ کر حضرت اقدس کی خدمت میں شادی کی مبارکباد پیش کی۔اور حضرت ڈاکٹر صاحب کے اخلاص کی بہت تعریف کی۔جس پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت اخلاص دیا ہے۔ان میں اہمیت اور زیر کی بہت ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ ان میں نور فراست بھی ہے۔10 اس جگہ یہ ذکر کرنا بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ حضرت ڈاکٹر صاحب موصوف کے والد بزرگوار حضرت خلیفہ حمید الدین صاحب جو ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین صاحب کے دادا تھے، انجمن حمایت اسلام لاہور کے ابتدائی داعی اور معماروں میں سے تھے۔علماء کی حالت علماء اسلام کی اخلاقی حالت کس قدر گر چکی ہے؟ اس کے ثبوت میں آپ نے ایک خطبہ جمعہ کے دوران میں ایک واقعہ بیان فرمایا۔چونکہ وہ واقعہ بہت ہی سبق آموز ہے۔اس لئے یہاں اس کا درج