حیاتِ نور

by Other Authors

Page 246 of 831

حیاتِ نور — Page 246

۲۴۶ کی غرض سے بیرونی ممالک میں جانے والے تھے، ان کے متعلق جماعت اپنے فرض کو پہچانے۔اس لئے یہ مضمون ہم مکمل طور پر درج کرتے ہیں : جلسة الوداع ہم اشتهار للانصار میں لکھ چکے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے تین آدمی اس کام کے لئے منتخب کئے جائیں گے کہ وہ نصیبین اور اس کے نواح میں جائیں اور حضرت عیسی علیہ السلام کے آثار اس ملک میں تلاش کریں۔اب حال یہ ہے کہ خدا کے فضل سے سفر کے خرچ کا امر قریباً انتظام پذیر ہو چکا ہے۔صرف ایک شخص کے زادراہ کا انتظام باقی ہے یعنی اخویم مگر می مولوی حکیم نورالدین صاحب نے ایک آدمی کے لئے ایک طرف کا خرچ دیدیا ہے اور اخویم منشی عبد العزیز صاحب پٹواری ساکن اوجله ضلع گورداسپور نے باوجود قلت سرمایہ کے ۱۲۵ روپیہ دیئے ہیں اور میاں جمال الدین کشمیری ساکن سیکھواں ضلع گورداسپور اور ان کے دو برادر حقیقی میاں امام الدین اور میاں خیر الدین نے ۵۰ روپیہ دیئے ہیں۔ان چاروں صاحبوں کے چندہ کا معاملہ نہایت عجیب اور قابل رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ رکھتے ہیں گویا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح جو کچھ گھروں میں تھا وہ سب لے آئے ہیں اور دین کو آخرت پر مقدم کیا جیسا کہ بیعت میں شرط تھی۔ایسا ہی مرزا خدا بخش صاحب نے بھی اس سفر خرچ کے لئے پچاس روپیہ چندہ دیا ہے۔خدا تعالیٰ سب کو اجر بخشے۔آج ۱۰ را کتوبر ۱۸۹۹ء کو قرعہ اندازی کے ذریعہ سے وہ دو شخص * تجویز کئے گئے ہیں جو مرزا خدا بخش صاحب کے ساتھ نصیحمین کی طرف جائیں گے۔اب یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان عزیزوں کی روانگی کے لئے ایک مختصر سا جلسہ کیا جائے چونکہ یہ عزیز دوست ایمانی صدق سے تمام اہل وعیال کو خدا تعالٰی کے حوالہ کر کے اور وطن کی محبت کو خیر باد کہہ کر دور دراز ملکوں میں جائیں گے اور سمندر کو چیرتے ہوئے اور جنگلوں اور پہاڑوں کو طے کرتے ہوئے نصیبین یا اس سے آگے بھی سیر کریں گے اور کربلا معلیٰ کی بھی زیارت کریں گے۔اس لئے یہ ہو حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھو بانی اور حضرت مولوی قطب الدین صاحب بدوملہی۔۔