حیاتِ نور

by Other Authors

Page 200 of 831

حیاتِ نور — Page 200

۲۰۰ السلام کے آستانہ عالیہ سے جدا ہو کر کسی اور جگہ رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا مگر نواب صاحب کو آزمانے کے لئے آپ نے فرمایا۔اچھا نواب صاحب! اگر میں یہاں رہ پڑوں تو میرے گزارے کی کیا سبیل ہوگی؟ اگلا قصہ خود حضرت مولوی صاحب کی زبان سے سنئے۔فرماتے ہیں: نواب بہاولپور ہمیں ساٹھ ہزار ایکڑ زمین دیتا تھا۔ہم نے انکار کیا اور کہا کہ اس قدر زمین سے کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آپ اس سے امیر کبیر ہو جائیں گے۔میں نے کہا کہ اب تو آپ ہماے پاس چل کر آتے ہیں کیا پھر بھی آئیں گے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں! میں نے کہا کہ پھر فائدہ ہی کیا ہے؟ " آپ فرماتے ہیں: میں نے اپنی اولاد کے واسطے کبھی فکر نہیں کیا نہ زمین کا نہ کسی اور بات کا۔اگر ہم زمین لینا چاہتے تو بیشمار زمین جمع کر لیتے۔اللہ تعالیٰ نے میرے دادا سے بڑھ کر اولاد اور رزق میرے باپ کو دیا۔پھر مجھ کو مال، کتا میں علم اور شہرت وغیرہ سب کچھ باپ سے زیادہ دیا‘۔ایک دفعہ فر مایا: دیکھو! میں نے اپنے باپ کا روپیہ ترکہ میں نہیں لیا۔باپ کے مکانات میں بھی نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔پس انسان اولاد کی فکر میں ایسا منہمک کیوں ہو۔71 حضرت خواجہ غلام فرید صاحب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کا بھی تھوڑا سا ذکر خیر کر دیا جائے۔حضرت خواجہ صاحب نواب صاحب بہاولپور کے پیر تھے اور حقیقت میں ایک عالم و فاضل اور صاحب کشف اور صاحب حال بزرگ تھے۔جب حضرت اقدس نے علماء ہند کو مخاطب کر کے اشتہار مباہلہ“ میں اپنے الہامات کی ایک فہرست شائع فرمائی۔لے تو جہاں اور علماء، صوفیا ، سجادہ نشینوں اور پیروں کو وہ اشتہار رجسٹری کروا کر بھیجا وہاں ایک نسخہ اس کا حضرت خواجہ صاحب کی خدمت میں بھی بھیجا۔خواجہ صاحب موصوف نے حضور کے الہامات کو بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا اور اس کا جواب عربی مکتوب میں دیا جو حضرت اقدس کی کتاب انجام آتھم صفحہ ۳۲۳ میں شائع شدہ موجود ہے۔اس کے بعد اپنی مجلس میں فرمایا کہ: