حیاتِ نور

by Other Authors

Page 182 of 831

حیاتِ نور — Page 182

Ar جناب غلام فرید صاحب ایم۔اے فرمایا کرتے ہیں کہ جتنا موقعہ مجھے حضرت خلیفتہ اسی الاول کی صحبت میں رہنے کا ملا ہے بہت کم لوگوں کو اتنا موقعہ ملا ہو گا۔آپ نے بارہا اس قرض کی ادائیگی کا ذکر فرمایا لیکن یہ کبھی نہیں بتایا تھا کہ وہ قرض حضور نے کس طرح ادا فرمایا۔حضور کا زمانہ گزر گیا۔حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا زمانہ آیا۔اس میں سے بھی کافی عرصہ گزر گیا۔میں نے جب قرآن مجید کی انگریزی تفسیر کی طباعت کے سلسلہ میں لاہور آنا شروع کیا تو ایک مرتبہ جناب ملک غلام محمد صاحب قصوری کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اس قرض کی ادائیگی کا ذکر چل پڑا۔محترم ملک صاحب مرحوم نے فرمایا که حضرت مولوی صاحب جب سیاسی حالات کے ماتحت مہا راجہ جموں و کشمیر کی ملازمت سے الگ کئے گئے تو بعد میں حالات کے سدھرنے پر مہاراجہ صاحب کو خیال آیا کہ مولوی صاحب ایک بہت بڑے حاذق طبیب تھے ان کو ملازمت سے علیحدہ کرنے میں ہم سے ظلم اور نا انصافی ہوئی ہے انہیں واپس لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔آپ سے جب عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اب میں ایسی جگہ پہنچ چکا ہوں کہ اگر مجھے ساری دنیا کی حکومت بھی مل جائے تو میں اس جگہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔چونکہ مہاراجہ صاحب کو اس نا انصافی کا شدت سے احساس تھا۔اس لئے انہوں نے اس کا ازالہ کرنے کی یہ تجویز کی کہ اب کی مرتبہ جنگلات کا ٹھیکہ صرف اسی شخص کو دیا جائے جو منافع کا نصف حصہ حضرت مولوی صاحب کو ادا کرے۔چنانچہ اسی شرط کے ساتھ ٹنڈر طلب کئے گئے۔جس شخص کو ٹھیکہ ملا۔اس نے جب سال کے بعد اپنے منافع کا حساب کیا تو خدا تعالیٰ کی حکمت کہ اسے ٹھیک تین لاکھ نوے ہزار روپیہ منافع ہوا۔جس کا نصف ایک لاکھ پچانوے ہزار بنتا تھا اور اسی قدر حضور کے ذمہ قرض تھا۔چنانچہ جب یہ روپیہ حضور کی خدمت میں پیش کیا گیا تو حضور نے فرمایا۔یہ روپیہ ریاست میں واپس لے جا کر فلاں سیٹھ صاحب کو دیدیا جائے۔ہم نے اس کا قرض دینا ہے۔دوسرے سال مہاراجہ نے پھر اس شرط پر ٹھیکہ دیا۔لیکن اس سال جب منافع کا نصف روپیہ حضور کی خدمت میں پیش کیا گیا۔تو حضور نے لینے سے انکار کر دیا اور رو فرمایا کہ نہ اس کام میں میرا سرمایہ لگا نہ میں نے محنت کی میں اس کا منافع لوں تو کیوں لوں؟ ٹھیکہ دار نے کہا جناب! مجھے تو یہ ٹھیکہ ملاہی اس شرط پر تھا۔آپ ضرور اپنا حصہ لے لیں۔ورنہ آئندہ مجھے ٹھیکہ نہیں ملے گا۔حضور نے فرمایا اب خواہ کچھ ہی ہو میں یہ روپیہ نہیں لوں گا۔اس نے کہا۔پھر پچھلے سال کیوں لیا تھا؟ فرمایا۔وہ تو میرے رب نے اپنے وعدہ کے مطابق میرا قرض اتارنا تھا۔جب وہ اُتر گیا تو اب میں کیوں لوں۔اس پر وہ ٹھیکہ دارواپس چلا گیا۔