حیاتِ نور — Page 175
۱۷۵ نوجوان کی ملازمت کا پروانہ بھی اس میں موجود تھا۔اور اُسے محکمہ پولیس میں ملازمت کے سلسلہ میں لاہور حاضر ہونے کی ہدایت تھی۔وہاں سے جب آگے چلے۔تو اگلے پڑاؤ پر اس نوجوان نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ مولوی صاحب! میرا قرآن شریف تو وہیں درخت سے لٹکا رہ گیا۔جہاں نماز پڑھی تھی۔مگر خیر اب لاہور جاتے ہی سب سے پہلا کام یہ کروں گا کہ ایک عمدہ قرآن شریف خریدوں گا۔آپ نے فرمایا۔بس ! اب تم کو قرآن شریف پڑھنے کا موقعہ نہ ملے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور ایک مدت کے بعد جب آپ خلافت اولی کے بلند منصب پر فائز تھے اس کا خط ملا جس میں یہ درج تھا کہ اسے آج تک قرآن کریم پڑھنا نصیب نہیں ہوا۔البتہ یہ ارادہ ضرور رکھتا ہے کہ اپنے لڑکے کو قرآن شریف پڑھائے۔ریاستوں میں بدنظمی کا دور دورہ ریاستوں میں عموماً بد نظمی کا دور دورہ رہتا تھا۔راجے مہاراجے اور نواب عیاشی اور بے راہ روی کی زندگی بسر کرتے تھے جس کا نتیجہ لازمی طور پر یہ نکلتا تھا کہ اہل کاروالیان ریاست کو تو خوش رکھتے تھے مگر سرکاری خزانہ کو خوب لوٹتے تھے۔رعایا بھی عموماً اُن سے نالاں ہی رہتی تھی۔یہی حال ریاست کشمیر کا تھا۔کئی کئی ماہ تک اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں ملتی تھیں۔یہ حال دیکھ کر آپ نے بعض احباب کے مشورہ سے درخواست دی کہ میری تنخواہ ماہ بماہ مجھ کول جایا کرے۔جب آپ کی درخواست پیش ہوئی تو اس وقت عمداً آپ غیر حاضر تھے۔مہاراجہ صاحب بہت ناراض ہوئے کہ یہ ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور تنخواہ ماہ بماہ لیتے ہیں۔تمام حاضرین دربار نے یک زبان ہو کر آپ کی تائید کی اور کہا کہ ان کا خرچ بہت ہے اور بدوں اس کے گزرمشکل ہے۔چنانچہ آپ کی درخواست منظور کر لی گئی۔لیکن جب آپ دربار میں گئے تو مہاراج نے آپ کو سُنانے کے لئے کہا کہ : بعض لوگ اپنی تنخواہ ہم سے پہلے ٹھہراتے اور ماہ بماہ ما نگتے ہیں لیکن۔وزیرا عظم دس برس سے ہمارے یہاں نوکر ہیں۔ابتک تنخواہ مانگنا تو در کنار خو او مقرر بھی نہیں ہوئی۔۲۹ مہاراجہ کی یہ بات سن کر آپ نے فرمایا کہ پھر وہ کھاتے کہاں سے ہیں؟“ ظاہر ہے کہ اس کا جواب مہاراج کیا دے سکتے تھے۔خاموش ہور ہے۔