حیاتِ نور — Page 169
ـور 199 آپ نے وہ گھوڑی سات سو روپیہ میں خریدی تھی۔تھوڑی دور ہی گئے کہ گھوڑی کو درد قولنج ہوا۔اور راولپنڈی پہنچ کر وہ مرگئی۔ٹانگے والوں کو کرایہ دینا تھا۔آپ ٹہل رہے تھے۔میں نے عرض کی۔ٹانگہ والے کرایہ طلب کرتے ہیں۔آپ نے نہایت رنج کے لہجہ میں فرمایا کہ نورالدین کا خدا تو وہ مرا پڑا ہے۔اب اپنے اصل خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں وہی کارساز ہے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک سکھ اپنے بوڑھے بیمار باپ کو لے کر حاضر ہوا۔آپ نے اُسے دیکھ کر نسخہ لکھا۔اس نے ہمیں اتنی رقم دے دی کہ جموں تک کے اخراجات کے لئے کافی ہو گئی۔حکیم صاحب کے اس رشتہ دار نے یہ بھی سنایا کہ ایک دفعہ میں حضرت مولوی صاحب کے ساتھ لاہور آیا۔آپ کے روپے میرے پاس تھے اور آپ کے ارشاد کے مطابق خرچ کرتا تھا حتی کہ سب روپیہ خرچ ہو گیا۔رات کو آپ ایک دوست کے ہاں ٹھہرے صبح ہوئی تو جموں واپس جانے کے لئے اسٹیشن کی طرف چل پڑے۔میں نے خیال کیا کہ آپ نے اس دوست سے کرایہ کے لئے رقم لے لی ہوگی۔جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو آپ ایک بینچ پر بیٹھے۔میں نے ٹکٹ کے لئے روپے طلب کئے۔آپ نے فرمایا تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ۔کچھ دیر کے بعد ایک آدمی آیا اور آپ سے پوچھنے لگا۔آپ کو کہاں جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا جموں۔اس نے کہا کہ آپ نے ٹکٹ لے لی ہے؟ فرمایا ابھی نہیں۔اس نے پوچھا۔آپ کتنے آدمی ہیں؟ فرمایا دو۔وہ بھاگا ہوا گیا۔اور دو ٹکٹ لے آیا اور کہنے لگا کہ گاڑی تیار ہے چلیئے۔گاڑی میں وہ بھی ساتھ بیٹھ گیا اور اپنی بیماری کا حال بتاتا رہا۔آپ نے اسے نسخہ لکھ کر دیا اور وہ راستہ سے واپس آ گیا۔حکیم صاحب کے رشتہ دار نے یہ بھی سنایا کہ ایک دن ایک مہترانی نے آکر کہا کہ میرے لڑکے کے پیٹ میں سخت درد ہے۔آپ نے پوچھا کیا وہ یہاں نہیں آ سکتا۔اس نے کہا۔نہیں۔آپ نے پوچھا تمہارا گھر کتنی دور -