حیاتِ نور

by Other Authors

Page 168 of 831

حیاتِ نور — Page 168

2 ۱۶۸ یہ کہہ کر کہ لو بیوی تم بھی موج اُڑائو۔مکرم مولوی تاج الدین صاحب لائلپوری قاضی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے بیان فرمایا کہ: مولوی غلام قادر صاحب نے جو رشتے میں میرے ماموں ہوتے تھے اور اہلحدیث فرقہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ایک دفعہ مجھے سنایا کہ مولوی نورالدین صاحب کا درس سننے کے لئے میں اکثر جموں جایا کرتا تھا۔نیز کہا کہ ہندوستان میں اگر کوئی قرآن جانتا تھا تو وہ میرے خیال میں حکیم نورالدین صاحب ہی تھے۔پھر کہا کہ مولوی صاحب کو اسلام کے ساتھ بے حد محبت تھی اور اشاعت اسلام کی ایک بڑی تڑپ رکھتے تھے۔چنانچہ جب میں ایک دفعہ اُن کے پاس جموں گیا تو ایک شخص کے متعلق جو مولوی صاحب کے ساتھ میل ملاپ رکھتا تھا مجھ سے اس کا حال دریافت کیا۔میں نے کہا کہ وہ تو عیسائی ہو گیا ہے اور عیسائیوں کے ایک سکول میں - / ۲۵ روپے ماہوار پر مدرس مقرر ہو گیا ہے۔یہ سن کر مولوی صاحب کو بڑا صدمہ ہوا۔اور مجھ سے فرمایا کہ اس کو میری طرف سے کہو کہ وہ دنیا کی خاطر اسلام نہ چھوڑے۔پھر مسلمان ہو جائے اور ۲۵ روپے ماہوار جب تک میں زندہ ہوں مجھ سے لے لیا کرے۔میں اسے باقاعدگی کے ساتھ بھجواتا رہوں گا اور اس کے علاوہ جو کاروباروہ کرنا چاہے وہ بھی بیشک کرتا رہے۔محترم چوہدری غلام محمد صاحب کا بیان ہے کہ: ایک دفعہ میں موضع کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ میں ایک دوست حکیم خادم علی صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔حکیم صاحب کا ایک رشتہ دار جو جموں کا رہنے والا تھا۔وہ بھی موجود تھا۔یہ دوست حضرت مولوی نورالدین صاحب کا شاگرد تھا اور آپ کے جموں کے قیام کے زمانہ میں آپ کا کمپاؤنڈر بھی رہا تھا۔اس نے چند باتیں آپ کے متعلق بتائیں۔ا۔اس نے یہ ذکر کیا کہ ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب کشمیر سے راولپنڈی کے راستہ سے واپس آ رہے تھے کہ دوران سفر میں روپیہ ختم ہو گیا۔میں نے اس بارہ میں عرض کیا۔آپ نے فرمایا۔یہ گھوڑی چار پانچ صد روپے میں بیچ دیں گے فوراً بک جائے گی اور خرچ کے لئے روپیہ کافی ہو جائے گا۔