حیاتِ نور

by Other Authors

Page 143 of 831

حیاتِ نور — Page 143

۱۴۳ ہمارے مرید بہت ہیں۔ہم تمہارے منشاء کے مطابق قرآن کریم اُن کو سنایا کریں گے۔آخر جلسہ مابین ناکامی و کامیابی ( پیر صاحب کے بھولے پن کی مہربانی ) برخاست - ایک اور صاحب علیگڑھ میں انگریزی و سنسکرت پڑھتے تھے اور برہمن کا خون بھی ان میں تھا۔مجھے فرمایا کہ یہ مردہ زبان ہے اور اس کے پڑھانے والے احمق پنڈت ہیں۔میں اب نہیں پڑھ سکتا۔آخر پلیڈر بن گئے۔اب ان کی یہ حالت ہے کہ ایک آشنا کو پرائیویٹ خط میں لکھتے ہیں کہ قادیانی لوگ لائق تھے مگر کود کر اسلام سے نکل گئے اور خود نہ نماز ، نہ روزہ، نہ زکوۃ ، نہ حج اور نہ قرآن کریم کا فہم۔یہ تہذیب اور شائستگی وہاں سیکھی۔سید احمد خاں مجھے جانتے تھے اور میں (بھی) ان کو اچھی طرح جانتا تھا۔اُن کی (کتاب) الدعاء والاستجابتہ" پر میری تحریک سے برکات الدعا رسالہ نکلا تھا۔جس کے باعث انہوں نے خط و کتابت کا سلسلہ مجھ سے زیادہ کر لیا۔اور قریب ایام مرگ مجھے لکھا کہ بدوں نصرت الہیہ اور دعا کے کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے حضرت مفتی محمد صادقی صاحب اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: حضرت خلیفہ اسح" کو اشاعت اسلام کا ہمیشہ سے جوش رہا ہے چونکہ جموں میں آپ ایک معقول آمدنی والے معزز عہدے پر ممتاز تھے۔تنخواہ اور انعام سرکاری اور پرائیویٹ پریکٹس سب ملا کر اوسط بہت رو پیہ ماہوار آمدنی تھی اور ساتھ اس کے طریق زندگی بہت سادہ تھا۔آپ کا روپیہ سب دینی کاموں پر خرچ ہوتا تھا۔آپ نے یہ تجویز کی تھی کہ اپنے خرچ پر دو طلباء کو اعلیٰ درجہ کی عبرانی پڑھا ئیں۔اور دو کو یونانی، دو کو سنسکرت ، دو کو انگریزی ایسا ہی دیگر زبانیں اور علوم پڑھائے جائیں اور یہ ایک جماعت ہو۔جو تمام مذاہب مروجہ کے دینی علوم سے پوری واقفیت کر کے قرآن شریف کی تفسیر لکھے۔اور خدمت دین میں اپنی عمر گزارے۔اس جماعت کے دو ممبر دو سال تک کلکتہ میں یہودیوں سے عبرانی سیکھتے رہے تھے اور حضرت ان کو معقول ماہوار بھیجتے رہے تھے اور ان پر بہت خرچ ہوا تھا۔وہ ہر دو عبرانی پڑھ کر جموں آئے۔لیکن جب حضرت کا ارادہ ہوا