حیاتِ نور

by Other Authors

Page xv of 831

حیاتِ نور — Page xv

ور اول مکرمی شیخ صاحب نے اس کتاب میں حضرت خلیفہ اسیح اول کی سیرت کے ہر پہلو پر رسینکڑوں واقعات نہایت صاف اور سادہ تصنع اور تکلف سے نا آشنا طریق پر جمع کر دیئے ہیں۔کتاب کے قریبا ہر صفحہ پر حضرت ممدوح کی سیرت کا کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ درج ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ نورالدین اعظم کس روحانی عظمت کے مالک تھے اور کس قدر دنیا اور دنیا والوں سے بے نیاز اور اپنے رب پر توکل کرنے والے اپنے آقائے نامدار آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح پاک کے بچے اور وفادار خادم تھے۔مولانا شیخ عبد القادر صاحب جو ایک نیک اور سادہ طبیعت کے انسان ہیں۔انہوں نے ایک بہت بڑے روحانی مگر نہایت سادہ انسان کے حالات زندگی بہت سادہ مگر بہت دل کش پیرائے میں بیان کر دئیے ہیں۔آپ نے یہ کتاب تصنیف فرما کر ایک بہت بڑی کمی کو پورا کر دیا ہے، اور جماعت احمدیہ پر عموما اور جماعت کے نوجوان طبقہ پر خصوصا بہت بڑا احسان فرمایا ہے۔میں خود برسوں حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوں، اور دن رات آپ کے درس سنے اور انہیں اپنی کاپیوں پر نوٹ کیا۔مولانا شیخ عبد القادر صاحب کی اس کتاب کے پہلے نصف حصہ کے مطالعہ نے حضرت ممدوح کے متعلق میرے علم اور حضور کے ساتھ میر کی محبت میں بہت بڑا اضافہ کیا ہے۔اس کتاب کی تصنیف میں مولانا نے ہزاروں ہی صفحات کھنگال ڈالے ہیں، اور بہت ہی محنت اٹھائی ہے۔اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے۔آمین غلام فرید ملک ۲۰ دسمبر ۱۹۹۳ء محترم جناب شیخ بشیر احد صاحب سابق حج ہائی کورٹ ممبر نگران بورڈ۔اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: زمانہ کروٹیں لیتا چلا جاتا ہے، پرانے نقوش مٹتے اور نئے ابھرتے چلے جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ کا عہد اس کی یاد اور اس سے جو فوائد ہم لوگوں نے حاصل کئے۔نئی پود بہت حد تک اس سے ناواقف ہے، ان بظاہر مئی ہوئی یادوں کے متعلق بعض امور اس انداز کے ہوتے ہیں کہ انہیں قائم رکھنا اور ہر ممکن طریق سے انہیں بھولنے نہ دینا، احیاء قوم کے لئے از بس ضروری ہوتا ہے۔اللہ تعالٰی بھلا کرے شیخ عبد القادر صاحب کا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح پر حیات طیبہ" لکھ کر ایک اہم ضرورت کو پورا کیا۔اب ان کی دوسری کوشش ”حیات نو ر ہے جس کا ایک حصہ جستہ جستہ میں نے دیکھا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں کچھ ایسے انداز سے اسلوب بیان کی توفیق عطا فرمائی