حیاتِ نور — Page xiii
11 اخوریم محترم جناب مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ایڈیٹر رسالہ "الفرقان‘ لکھتے ہیں : سید نا حضرت خلیفہ اسیح الاول مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ وارضاہ اس قرن میں اسلام کے وہ بے مثال فدائی ہیں۔جنہوں نے اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شمار کر دیا، وہ پہلے فرزند اسلام ہیں۔جنہوں نے عصر حاضر میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ماموریت کی آواز پر سب سے پہلے لبیک کہی اور پھر اس راہ میں آخر تک قربانی کا ایک نادر نمونہ قائم فرمایا۔وہ احمد کی جماعت کے جملہ افراد کے لئے قابل تقلید اسوہ ہیں، ان کے حالات کا مطالعہ کرنا اور اس طریق پر گامزن ہونا، جو آپ نے زندگی بھر اختیار کی۔ہر بچے احمدی کا فرض ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔چه خوش بودے اگر ہر یک زی امت نور دیں بودے! ہمیں بودے اگر ہر دل پُر از نور یقیں بودے اخویم محترم جناب شیخ عبد القادر صاحب نے اپنی تازہ تصنیف ”حیات نور“ کے ذریعہ ایک بیش بہا خدمت سلسلہ کی ہے، کتاب نہایت محنت اور پوری کاوش سے لکھی گئی ہے اور واقعات کی چھان بین میں شیخ صاحب موصوف نے اپنا مؤرخانہ مستقل طریق عمل ہر مرحلہ پر قائم رکھا ہے۔کتاب کی کتابت طباعت اور کاغذ بھی نہایت عمدہ ہے۔ہر جگہ اخلاص کی جھلک نمایاں ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر بخشے، اور اس کتاب کو احباب کے لئے نافع بنائے۔آمین! اس کی بکثرت اشاعت از بس ضروری ہے۔خاکسار ابوالعطاء جالندھری ۱۸/ نومبر ۱۹۶۳ء مکرم و محترم جناب چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور تحریر فرماتے ہیں: آپ کی تالیف منیف حیات نور کا اب تک کا طبع شدہ حصہ جو ۲۱۶ صفحات پر مشتمل ہے، خاکسار نے پڑھا ہے، آپ کے لئے اور حضرت خلیفہ ایسی اول کے لئے بے اختیار دل سے دعا نکلتی ہے، جو حالات حضرت ممدوح " کی زندگی کے اس حصہ میں درج ہیں، ان کے مطالعہ سے اللہ تعالیٰ سبحانہ کی ذات اور صفات پر ایمان کو ایک نئی جلالی اور آپ کے لئے بھی دل جذبات تشکر اور محبت سے معمور ہے کہ آپ نے مومنوں کے لئے تسکین روح کا ایک اور سامان مہیا فرمایا اور غیر مومنوں کے لئے رحیم و کریم و رحمن اللہ کی بے پایاں قدرت و جبروت پر ایمان لانے کی راہیں آسان کر دیں آپ کی یہ تصنیف پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے اس وعدے پر یقین اور محکم ہوا کہ :