حیاتِ نور — Page 100
باب دوم شروع ہوئے۔جو مرتا اس کی بیوی جو اس کے ہاتھ آتا لے کر گھر سے نکل جاتی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ باقی بھائی قبضہ کر لیں گے اور اسباب میرے قبضہ میں نہ رہے گا۔رفتہ رفتہ سب مر گئے اور سارا گھر خالی ہو گیا۔(اس کے بعد ) جبکہ میرا تعلق ریاست جموں سے تھا۔میں ایک دفعہ گرمیوں کے موسم میں اپنے مکان پر آیا۔وہاں میں اس جگہ جو ہمارے مشتر کہ خزانہ کی کوٹھری گھر کی عام نشست گاہ کے قریب تھی ، دوپہر کے وقت سور ہا تھا۔میری والدہ قریب کے کمرہ میں آئیں۔انہوں نے اس قدر زور سے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔میں نے ان سے کہا کہ صبر کے کلمہ کو تو اس قدر بے صبری کے ساتھ نہیں کہنا چاہئے۔پھر میں نے اُن سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ تمام گھر اب ویران اور خالی کیوں پڑا ہے؟ کہا کہ ہاں۔مجھ کو وہ تیری اس روز کی بات خوب یاد ہے۔اسی کا میر اثر ہے کہ مجھ کو ہر ایک بیٹے کی موت کے وقت وہ بات یاد آتی رہی ہے۔پھر میں نے کہا کہ اور بھی کچھ سمجھ میں آیا ؟ کہا کہ ہاں میں جانتی ہوں کہ میرا دم تیرے سامنے نہ نکلے گا بلکہ میں اس وقت مروں گی جبکہ تو یہاں نہ ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور قاضی امیر حسین نے جو اس وقت موجود تھے، کفن دفن کا کام انجام دیا۔میں اس وقت جموں میں تھا۔اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے چاہا تھا کہ نورالدین کفن دفن میں شریک ہو اور ہم اس کے سامنے فوت ہوں گئے۔حمد نوٹ از مؤلف: اس واقعہ سے جماعت کے دوست اگر چاہیں تو بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔اولاد بے شک ہر شخص کو عزیز ہوتی ہے لیکن اولاد کی زندگی اور موت کا سلسلہ اللہ تعالٰی نے اپنے قبضہ میں رکھا ہے۔پھر کون جانتا ہے کہ اس کی اولاد نیک ہو کر اس کے نام کو روشن کرے گی۔یا بد ہو کر اس کے خاندان کو بدنام کر دے گی۔اس لئے ومما رزقتهم ينفقون ون کی تعلیم کے مطابق ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی اولاد کو بھی عطایات الہیہ میں سے سمجھ کر اپن کسی نوسی بچہ کوئی سبیل اللہ وقف کرے اور پھر دیکھے کہ وہ کس قدر انعامات الہیہ میں سے حصہ پاتا ہے۔دیکھ لیجئے ، حضرت خلیفۃ المسیح نے اپنے آپ کو وقف کر کے جناب الہی سے کس قدر انعامات پائے۔اگر آپ کی والدہ ماجدہ بھی خوشی کے ساتھ آپ کو وقف کرنے کے لئے تیار ہو جاتیں تو ہو سکتا تھا کہ اس قربانی کے بدلہ میں اپنی دوسری اولاد کو بھی اپنی آنکھوں کے سامنے سرسبز اور با برگ وہار ہوتے دیکھتیں۔اس واقعہ میں ان بچوں کے لئے بھی ایک قیمتی سبق موجود ہے جو کہا کرتے ہیں کہ ہم تو زندگی وقف کرنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن والدین اجازت نہیں دیتے۔وہ اگر چاہیں تو حضرت مولوی صاحب کی زندگی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پھر یہ واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ جو لوگ کہا کرتے ہیں کہ اگر ہم اپنے بچہ کو وقف کر دیں تو وہ کھائے گا کہاں سے اور پہنے گا کہاں سے؟ اس کے دوسرے بھائی تو دنیا میں عزت و آرام کی زندگی بسر کریں گے لیکن یہ واقف زندگی ان کو دیکھ دیکھ کر پیچ و تاب کھاتا رہے گا۔لیکن ان کا یہ خدشہ بالکل موہوم ہے۔حضرت کی زندگی کا ایک ایک واقعہ شاہد ہے کہ وہ جو اپنے آپ کو کامل طور پر خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ خود ان کا متکفل ہو جاتا ہے۔