حیاتِ نور — Page xi
ـور مکرم و محترم جناب مولا نا عبد الرحمن صاحب جٹ امیر جماعت احمدیہ قادیان۔جن کی تحریر کا عکس آپ بالمقابل صفحہ پر دیکھ رہے ہیں۔کتاب ”حیات نور پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: عزیزم مکرم شیخ عبد القادر صاحب فاضل مربی سلسلہ عالیہ احمد یہ مقیم لاہور مصنف "حیات طیبه نے حضرت خلیفہ امسیح اول سید نانورالدین کی جوسوانح عمری حیات نور“ کے نام سے مرتب کی ہے، اس کے مطالعہ سے (ان) لوگوں کو جنہوں نے) حضور کا زمانہ پایا ہے اور حضور کے اقوال و ارشادات کو خود اپنے کانوں سے سنا ہے، یوں معلوم ہوتا ہے۔گویا وہ مبارک زمانہ پھر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔کتاب پڑھنے سے حضور کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت، قرآن کریم سے عشق اور اللہ تعالیٰ پر توکل بلند اور اپنی عزم، حکیمانہ ارشادات، اتفاق اور اتحاد کی تلقین ، ضرورت خلافت، نظام کی اہمیت اور اطاعت امام سے متعلق پر زور تقریریں جب سامنے آتی ہیں، تو مؤلف کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔اس کتاب کی مدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔مؤلف قابل صد مبارک باد ہیں۔کہ انہوں نے پوری تحقیق و تدقیق اور محنت و عرقریزی سے کام لے کر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی ایک جامع سوانح عمری تیار کر کے ہمارے ہاتھوں میں دے دی ہے، اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔واقعات کی ترتیب، چھان بین اور تفاصیل کے لحاظ سے یہ کتاب یقیناً اس قابل ہو گئی ہے کہ اب بعد میں آنے والا کوئی مورخ اس مضمون پر لکھتے وقت اسے نظر اندا نہیں کر سکے گا۔اس کتاب کی تالیف میں زیادہ خوش کن بات مجھے یہ نظر آتی ہے۔کہ واقعات کے اندراجات کے وقت اس امر کو پورے طور پر لوظ رکھا گیا ہے۔کہ مفہوم بیان کرنے کی بجائے حضور کے اپنے الفاظ درج کئے جائیں۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء فی الدنیا والآخرة۔خاکسار عبدالرحمن امیر جماعت احمدیہ قادیان ۱۵ ستمبر ۱۹۶۳ء