حیاتِ نور — Page 80
A+ ناظرہ پڑھا تھا۔البتہ قرآن کریم کا ترجمہ اور حدیث اور طب اپنے والد سے پڑھی۔حفصہ کی منگنی اپنے ماموں زاد بھائی حکیم مفتی فضل الرحمن صاحب سے ۱۸۸۸ء میں ہوئی تھی جبکہ حضرت مولوی صاحب ریاست جموں وکشمیر میں بطور شاہی طبیب ملازم تھے اور شادی ۳۱ مئی ۱۸۹۱ء کو ہوئی۔اس لڑکی کی جب شادی ہوئی تو حضرت مولوی صاحب نے اُسے علاوہ اس جہیز کے جو عام طور پر لوگ دیا کرتے ہیں۔ایک بڑا صندوق کتابوں کا بھی دیا جو آپ کے زیر مطالعہ رہتی تھیں۔یہ سب کتابیں قرآن کریم، احادیث وغیرہ دینیات کی تھیں۔مگر جب اسے ڈولی میں سوار کیا گیا تو پ اُسے رخصت کرنے کے لئے تشریف لائے اور کہا " حفصہ ! میں تیرا جہیز لایا ہوں اور ایک کا غذ اس کی گود میں رکھ دیا اور کہا کہ بچہ اس کو سرال پہنچ کر کھولنا اور پڑھ لینا۔اس کا غذ میں مندرجہ ذیل نصیحت کی باتیں درج تھیں : بیٹی کو رخصت کرتے وقت اُسے نصائح بچہ اپنے مالک، رازق، اللہ کریم سے ہر وقت ڈرتے رہنا۔اور اس کی رضامندی کا ہر دم طالب رہنا، اور دعا کی عادت رکھنا ، نماز اپنے وقت پر اور منزل قرآن کریم کی بقدر امکان بدوں ایام ممانعت شرعیہ ہمیشہ پڑھنا۔زکوۃ، روزہ، حج کا دھیان رکھنا اور اپنے موقعہ پر عملدرآمد کرتے رہنا۔گلہ ، جھوٹ، بہتان ، بیہودہ قصے کہانیاں یہاں کی عورتوں کی عادت ہے اور بے وجہ باتیں شروع کر دیتی ہیں۔ایسی عورتوں کی مجلس زہر قاتل ہے۔ہوشیار، خبر دار رہنا۔ہم کو ہمیشہ خط لکھتا۔علم دولت ہے بے زوال ہمیشہ پڑھنا۔چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو قرآن پڑھاتا۔زبان کو نرم ، اخلاق کو نیک رکھنا۔پردہ بڑی ضروری چیز ہے۔قرآن شریف کے بعد ریا حسین العابدین کو ہمیشہ پڑھتے رہنا۔مراۃ العروس اور دوسری کتابیں پڑھو اور ان پر عمل کرو۔اللہ تمہارا حافظ و ناصر ہو اور تم کو نیک کاموں میں مدد دیوے۔والسلام نورالدین اس لڑکی کے ہاں بھی کافی اولا د ہوئی۔۳۱ رمئی ۱۶۱۸۹۱