حیاتِ نور

by Other Authors

Page 79 of 831

حیاتِ نور — Page 79

قابلیت بڑھانے کے لئے کر کیا پڑھانا شروع کیا۔ایک روز جب یہ سبق آیا کہ بدہ ساقیا آب آتش لباس تو آپ حیران تھے کہ اسے کس طرح پڑھائیں۔آپ نے فرمایا۔امامہ ! آج تو رہنے دو کل پڑھائیں گے۔اگلے روز آپ نے وہ آب آتش لباس والا ورق پھاڑ دیا اور اس طرح پھاڑا کہ یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کوئی ورق علیحدہ کیا گیا ہے۔لیکن جب وہ پڑھنے لگی تو کہنے لگی کہ وہ آتش لباس والا ورق کہاں گیا۔پھر اس نے ورق پھاڑنے والے کو بہت کمر ا بھلا کہا۔غرض آپ نے آب آتش لباس والے ورق کے سوا کر یما" اُسے پڑھایا۔اس کے بعد نہ گلستان اس قابل تھی نہ بوستان کہ اُسے پڑھاتے۔انوار سہیلی ان سے بھی بدتر نکلی۔جب کوئی کتاب نہ ملی تو مجبورا آپ نے کہا کہ تم شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کا ترجمہ ہی پڑھو۔اس لڑکی کی شادی آپ نے حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کے بیٹے مولوی عبد الواحد صاحب کیساتھ کر دی۔حضرت مولوی عبداللہ صاحب غزنوی ایک بزرگ اور ولی اللہ انسان تھے اور انہی کی بزرگی کی وجہ سے حضرت خلیفہ اسح الاول نے اپنی لڑکی کی شادی ان کے لڑکے کے ساتھ کر دی مگر افسوس کہ اپنے اور بھائیوں کی طرح یہ بھی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے شدید دشمن رہے بلکہ ایک دفعہ جب یہ آپ سے ملاقات کرنے کے لئے قادیان آئے تو آپ کے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی ملنے چلے گئے۔جب حضرت اقدس مسجد مبارک میں ان سے باتیں کرنے لگے تو حضرت مولوی صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ حضرت اقدس کی کسی بات کا جواب نہیں دیتے تھے اور جلدی جلدی زبان ہلاتے جاتے تھے چنانچہ جب ان سے بعد ملاقات دریافت فرمایا کہ تم اُس وقت کیا پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ سورہ کہف کی پہلی دس آیتیں پڑھ رہا تھا۔حضرت اقدس نے جب یہ بات سنی تو بہت مُسکرائے۔اس لڑکی کی اولا د دولڑکوں اور دولڑکیوں پر مشتمل تھی۔بڑے لڑکے کا نا محمد ابراہیم اور چھوٹے کا نام محمد اسماعیل تھا۔لڑکیوں کے نام آمنہ اور خدیجہ تھے۔یہ لڑکی ۱۸۹۷ ء میں مرض دق میں مبتلا ہو کر قادیان میں فوت ہوگئی تھی اور اس کا بڑا لڑکا محمد ابراہیم بھی اسی مرض سے ۱۹۱۰ء میں وفات پا گیا تھا۔حفصہ حفصہ قریباً ۱۸۷۴ء میں بمقام بھیرہ پیدا ہوئی تھی۔حضرت مولوی صاحب نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے ایک حافظ صاحب کو ملازم رکھا ہوا تھا۔حفصہ نے بھی انہی حافظ صاحب سے قرآن کریم