حیاتِ نور

by Other Authors

Page 78 of 831

حیاتِ نور — Page 78

۔آدمی رات گزرگئی تو اس کی والدہ نے آپ کو جگا کر کہا کہ بیٹا! آدھی رات گزر گئی ہے اب تم اپنے گھر جاؤ۔آپ نے فرمایا میں یہیں رات بسر کرلوں گا۔اس نے کہا نہیں اب تم اپنے ہی گھر جا کر سوؤ۔آپ نے فرمایا۔اچھا! مگر میں تنہا نہیں جاؤں گا۔اس میرے دودھ شریک بھائی کو میرے ساتھ بھیجو کہ مجھ کو مکان تک پہنچا آئے چنانچہ وہ آپ کے ساتھ ہو لیا۔آپ نے دانستہ اس کو پیچھے رکھا اور خود آگے آگے چل پڑے۔لیکن اس نے کچھ نہیں کیا۔پھر جب آپ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو دروازے کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر اسکو نیچے کی سیڑھی پر کھڑا کر کے باتیں کرنے لگے کہ اب یہ اطمینان سے چھری مارے لیکن وہ تو اس قدر گھبرایا کہ اس نے آپ کو کہا کہ اب اجازت دیجئے۔آپ نے فرمایا۔اچھا۔اس پر وہ چلا گیا۔" آپ کی پہلی شادی جب آپ کی عمر انداز اتمیں سال کی ہوئی تو بھیرہ کے مفتیوں کے خاندان میں مفتی شیخ مکرم صاحب قریشی نعمانی کی صاحبزادی سے آپ کی شادی ہونا قرار پائی۔جب نکاح ہونے لگا تو نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب نے جو آپ کے اُستاد بھی تھے۔مہر کی مقدار آپ کی حیثیت سے زیادہ بتائی۔اس پر آپ نے فرمایا کہ مہر میں نے ادا کرنا ہے آپ نے ادا نہیں کرنا۔اس لئے میں پانسو روپیہ سے زیادہ ہرگز تسلیم نہیں کروں گا۔آپ کے ایسا کہنے سے ایک شور پڑ گیا۔کہ دیکھولڑ کا بول پڑا۔آپ کے اُستاد صاحب بھی ناراض ہو گئے مگر آپ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔آخر یا نسور و پیر مہر پر ہی نکاح ہوا۔آپ کی اس بی بی کا نام فاطمہ تھا اور مفتی فضل الرحمن صاحب کی پھوپھی تھیں۔آپ کے ہاں اس بی بی کے بطن سے تین لڑکیاں اور نوٹڑ کے تولد ہوئے جن میں سے سب سے بڑی کا نام امامہ تھا۔اور دوسری لڑکی حفصہ تھی۔تیسری کا نام امتہ اللہ تھا اور لڑ کے سب امتہ اللہ سے چھوٹے تھے جو خورد سالی ہی میں فوت ہو گئے تھے اور چھوٹی لڑکی امتہ اللہ بھی نو دس سال کی عمر میں چراغ سے آگ لگ جانے کی وجہ سے جل کر جموں میں فوت ہوگئی تھی۔انا للہ وانا الیہ راجعون امامه آپ کے ایک بچے کا نام اسامہ تھا جس کی وجہ سے آپ کی کنیت ابو اسامہ ہوئی۔بڑکی لڑکی امامہ بڑی لائق اور تعلیمیافتہ تھی۔اردو، فارسی اور پشتو سے خوب واقف تھی۔آپ اُسے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے قرآن کریم کا فارسی ترجمہ پڑھانا چاہتے تھے مگر اس سے پہلے فارسی کی